کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " ،
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ابن آدم (آدمی) کے پاس مال کے بھرے ہوئے دومیدان اور دو جنگل ہوں تو وہ تیسرا اور چاہے گا اور آدمی کا پیٹ تو بس مٹی سے ہی بھرے گا (مال و دولت کی ہوس ختم نہ ہونے والی ہوس کا خاتمہ بس قبر میں جا کر ہو گا۔) اور اللہ اس بندے پر عنایت اور مہربانی فرماتا ہے جو اپنا رخ اور اپنی توجہ اس کی طرف کر لیتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1048
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْءٌ كَانَ يَقُولُهُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ .
شعبہ نے کہا: قتادہ سے سنا وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ آپ پر نازل ہوئے تھے یا آپ (خود ہی) فرما رہے تھے۔ (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1048
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ ، أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ابن آدم کے پاس سونے کا بھرا ہوا میدان یا جنگل ہو تو وہ چاہے گا اسے ایک اور وادی مل جائے اور اس کا منہ (حرص وآز) تو مٹی ہی بھرے گی اور اللہ اپنا رخ اور اپنی توجہ اللہ کی طرف کرنے والے پر نظر عنایت فرماتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1049
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ .
مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا ، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا ، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کو بلوایا تو ان کے پاس تین سو (300) آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انھوں نے کہا تم اہل بصرہ کے بہترین افراد اور ان کے قاری ہو قرآن پڑھتے رہا کرو کہیں طویل مدت گزرنے سے تمھارے دل سخت نہ ہو جائیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہو گئے۔ اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جسے ہم طوالت اور (وعیدوں) کی سختی میں سورۃ براۃ سے تشبیہ دیا کرتے۔ تو میں اسے بھول گیا ہاں اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد ہے اگر آدمی کے پاس مال کے دو میدان ہوں تو وہ تیسرا میدان چاہے گا اور آدمی کے پیٹ کو مٹی ہی بھرے گی اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جس کو ہم مسبحات کی سورت سے تشیبہ دیا کرتے تھے اس کو بھی میں بھلا چکا ہوں ہاں اس سے مجھے یہ یاد ہے ”اے ایمان والو! ایسی بات کا دعوی کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں ہو وہ گواہی کے طور پر تمھاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘