حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ ، وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ، وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ منبر پر تھے اور صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 1034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جميعا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ۔۔۔ یا سب سے اچھا صدقہ۔۔۔ وہ ہے جس کے پیچھے (دل کی) تونگری ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور (دینے کی) ابتدا اس سے کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے عطا فرمایا میں نے (دوبارہ) مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا پھر فرمایا: ”یہ مال شاداب (آنکھوں کو لبھانے والا) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جائے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جائے گی، وہ اس انسان کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ ، وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے آدم کے بیٹے! بے شک تو (ضرورت سے) زائد مال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اسے روک رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے اور گزر بسر جتنا رکھنے پر تمہیں کوئی ملامت نہیں کی جائے گی اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کے (کے خرچ) تم ذمہ دار ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“