حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، واللفظ لأبي الطاهر ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " ،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں دو دو چیزیں خرچ کیں اسے جنت میں آواز دی جائے گی کہ اے اللہ کے بندے! یہ (دروازہ) بہت اچھا ہے۔ (کیونکہ وہ دوسرے میں سے جانے کا حقدار بھی ہوگا) جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا، جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا، اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا، اسے صدقے والے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا، اسے باب ریان (سیرابی کے دروازے) سے پکارا جائے گا۔“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسی انسان کو ان تمام دروازوں سے پکارے جان کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی (خوش نصیب) ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے تم انہی میں سے ہوگے۔“
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے یونس کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1027
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ ، أَيْ فُلُ هَلُمَّ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرتا ہے اسے جنت کے دروازوں کے پہرے دار ہر دروزاہ سے آواز دیں گے اے فلاں ادھر آؤ۔‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے فرد کے لیے تو کسی قسم کی تباہی اور مشکل نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ آپ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔‘‘
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ نے پوچھا: ”آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے۔ آپ نے پوچھا: ”تو آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتا ہے۔“