کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا ، فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا ، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا " .
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ”صدقہ کرو، وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر چلے گا، تو جسے وہ پیش کیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر کل تم اسے ہمارے پاس لاتے، تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“ چنانچہ اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1012
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً ، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ : " وَتَرَى الرَّجُلَ " .
عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔“ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ «وتر رجل» (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 157
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا " .
سہیل کے والد (ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال بڑھ جائے گا اور (پانی کی طرح) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا، تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبول کر لے اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں میں بدل جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 157
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 157
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً ، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : لَا أَرَبَ لِي فِيهِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم میں مال کی فراوانی ہو گی تو وہ عام ہو جائے گا حتی کہ مال کے مالک کو فکر و پریشانی ہوگی کہ اس سے اس کا صدقہ کون قبول کرے گا۔ اس کے لیے آدمی کو بلایا جائے گا تو وہ کہے گا، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 157
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1013
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَتَلْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي ، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ : فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اپنے جگر گوشے سونے اور چاندی کے ستونوں کی شکل میں اگل دے گی (زمین اپنے تمام خزانے باہر نکالے گی) تو قاتل آ کر (دیکھے گا) اور کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا رشتہ داری توڑنے والا آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قطع رحمی کی، چور آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر اس مال کو چھوڑدیں گے۔ اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»