حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " .
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے: "تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" اور ابن ابی شیبہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ "ہر نیکی صدقہ ہے۔"
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ : " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ، قَالَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ " .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (جو ہم نہیں کرسکتے)۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟ بے شک ہر دفعہ «سبحان اللہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «اللہ اکبر» کہنا صدقہ ہے۔ ہر دفعہ «الحمد للہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «لا إله إلا اللہ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور (بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے) تمھارے عضو میں صدقہ ہے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔"
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ، وَهَلَّلَ اللَّهَ ، وَسَبَّحَ اللَّهَ ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، أَوْ شَوْكَةً ، أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَى ، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ " ، قَالَ أَبُو تَوْبَةَ : وَرُبَّمَا قَالَ : " يُمْسِي " ،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بَنِي آدَمَ‘‘ (آدم کی اولاد) میں سے ہر انسان کے تین سو ساٹھ (360) جوڑ بنائے گئے ہیں تو جس نے اللہ اکبرکہا لاالہ الااللہ کہا، سبحان اللہ کہا: استَغفِرُالله کہا: لوگوں کے راستہ سے پتھر ہٹایا۔ یا لوگوں کے راستہ سے کا کانٹا یا ہڈی دور کی نیکی کی تلقین کی یا برائی سے روکا تین سو ساٹھ (360) جوڑوں کی تعداد کے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے پھرے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ سے دور کر چکا ہے۔ بعض دفعہ راوی نے یمشي کی جگہ کی جگہ یمسي (شام کرنا) کہا۔
حدیث نمبر: 1007
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ " ، وَقَالَ : " فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ " ،
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ (بن سلام) نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے زید کے بھائی نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کی مانند خبر دی مگر انہوں نے کہا: ”امر بالمعروف یا نیکی کا حکم دیا۔“ اور کہا: «فإنه يمسي يومئذ» ”وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1007
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ " ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَيْدٍ ، وَقَالَ : " فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ " .
یحییٰ نے زید بن سلام سے اور انہوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔۔۔“ آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا: «فإنه يمشي يومئذ» ”وہ اس دن چلے گا۔“
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ " ، قِيلَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ ، قَالَ : يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ، قَالَ : قِيلَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ؟ ، قَالَ : يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ " ، قَالَ : قِيلَ لَهُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ؟ ، قَالَ : يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ ، قَالَ : يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ " ،
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے ذمہ صدقہ ہے پوچھا گیا ہے۔ بتائیے اگر انسان کے پاس طاقت نہ ہو؟ (وہ صدقہ نہ کر سکے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کام کاج کرے اپنے آپ کو بھی نفع پہنچائے۔ اور صدقہ بھی کرے۔‘‘ کہا گیا: بتائیے اگر وہ ایسا نہ کر سکے؟ فرمایا ”ضرورت مند اور لاچار و مجبور پریشان حال کی مدد کرے‘‘ آپﷺ سے عرض کیا گیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”نیکی یا خیر و بھلائی کی تلقین کرے۔‘‘ عرض کیا گیا بتائیے اگر یہ بھی نہ کرے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”برائی سے رک جائے۔ یہ بھی (اپنے اوپر) صدقہ ہے‘‘ مَلْهُوفَ لاچار، مجبور، مظلوم، پریشان حال، رنجیدہ۔
حدیث نمبر: 1008
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
یہی روایت امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 1009
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ " ، قَالَ : تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا ، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ ، قَالَ : وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”تم دو (آدمیوں) کے درمیان عدل کرو، (یہ) صدقہ ہے۔ اور تمہارا کسی آدمی کی، اس کے جانور کے متعلق مدد کرنا کہ اسے اس پر سوار کرا دو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“