کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: میت کے ایصال ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1004
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ،
محمد بن بشر نے کہا: ہم سے ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک وفات پاگئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، میرا ان کے بارے میں گمان ہے کہ اگر بولتیں تو وہ ضرور صدقہ کرتیں، اگر (اب) میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں اجر ملے گا؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1004
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إسحاق ، كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ .
یحییٰ بن سعید، ابواسامہ، علی بن مسہر اور شعیب بن اسحاق سب نے ہشام سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ (اسی کی طرح) روایت بیان کی۔ ابواسامہ کی حدیث میں ’ولم توص‘ (اس نے وصیت نہیں کی) کے الفاظ ہیں، جس طرح ابن بشر نے کہا ہے۔ (جبکہ) باقی راویوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»