حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلاهما ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ .
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دینا ر جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے۔جسے انسان اپنے جہادی جاندار سواری پر صرف کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ابو قلابہ بیان کرتے ہیں آپﷺ نے ابتدا عیال سے فرمائی، پھر ابو قلابہ کہنے لگے۔ اس آدمی سے بڑھ کر اجر کس آدمی کا ہو سکتا ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، انہیں سوال کی ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ انہیں اس کے ذریعہ نفع پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے (عیال جن کے نان و نفقہ کا انسان ذمہ دار ہے۔ اس کے بیوی بچے نوکر، چاکر یا غلام)
حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے) ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن (کی آزادی) کے لیے خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا، ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔“
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ : أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ " .
خثیمہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کا کارندہ (مینیجر) ان کے پاس آیا، وہ اندر داخل ہوا تو انہوں نے پوچھا: ”(کیا) تم نے غلاموں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”جاؤ، انہیں دو۔“ (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انہیں نہ دے۔“