کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ ؟ ، قَالَ : وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ ؟ ، قَالَ : وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ ؟ ، قَالَ : الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا ، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ ، وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ ؟ ، قَالَ : مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 " ،
حفص بن میسرہ صنعانی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی کہ ان کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے (یا ان کی قیمت میں سے) ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا (انہیں) اس کے لیے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انہیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا، جب وہ (تختیاں) پھر سے (آگ میں) جائیں گی، انہیں پھر سے اس کے لیے واپس لایا جائے گا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ نکالا جائے، اور جب قیامت کا دن ہوگا اس (مالک) کو ایک وسیع چٹیل میدان میں ان (اونٹوں) کے سامنے بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ (اونٹ دنیا میں تعداد اور فربہی کے اعتبار سے) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے، وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہیں پائے گا، وہ اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے، جب بھی ان میں سے پہلا اونٹ اس پر سے گزر جائے گا تو دوسرا اس پر واپس لے آیا جائے گا، یہ اس دن میں (بار بار) ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! تو گائے اور بکریاں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور نہ گائے اور بکریوں کا کوئی مالک ہوگا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بچھایا (لٹایا) جائے گا۔ وہ ان میں سے کسی ایک (جانور) کو بھی گم نہیں پائے گا۔ ان میں کوئی (گائے یا بکری) نہ مڑے سینگوں والی ہوگی، نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی (سب سیدھے تیز سینگوں والی ہوں گی)، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے روندیں گی، (یہ معاملہ) اس دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، جب پہلا (جانور) گزر جائے گا تو ان کا دوسرا (جانور واپس) لے آیا جائے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔“ عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے تین طرح کے ہیں: وہ جو آدمی کے بوجھ ہیں، دوسرے وہ جو آدمی کے لیے ستر (پردہ پوشی کا باعث) ہیں، تیسرے وہ جو آدمی کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں۔ بوجھ اور گناہ کا باعث وہ گھوڑے ہیں جن کو ان کا مالک ریاکاری، فخر وغرور، اور مسلمانوں کی دشمنی کے لیے باندھتا ہے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ (گناہ) ہیں۔ اور وہ جو اس کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں (موقع ملنے پر) اللہ کی راہ میں (خود جہاد کرنے کے لیے) باندھ رکھا ہے، پھر وہ ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہیں بھولا تو یہ اس کے لیے باعث ستر ہیں (چاہے اسے جہاد کا موقع ملے یا نہ ملے) اور وہ گھوڑے جو اس کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی خاطر کسی چراگاہ یا باغیچے میں باندھ رکھا ہے (اور وہ خود جہاد پر جا سکے یا نہ جا سکے انہیں دوسروں کو جہاد کے لیے دیتا ہے) یہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جتنا بھی کھائیں گے تو اس شخص کے لیے اتنی تعداد میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس شخص کے لیے ان کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر (بھی) نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور وہ گھوڑے اپنی رسی تڑوا کر ایک دو ٹیلوں کی دوڑ نہیں لگائیں گے مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ان کے قدموں کے نشانات اور لید کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دے گا اور نہ ہی ان کا مالک انہیں لے کر کسی نہر پر سے گزرے گا اور وہ گھوڑے اس نہر میں سے پانی پیئں گے جبکہ وہ (مالک) ان کو پانی پلانا (بھی) نہیں چاہتا مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے اتنی نیکیاں لکھ دے گا جتنا ان گھوڑوں نے پانی پیا۔“ عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! اور گدھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر گدھوں کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کوئی چیز نازل نہیں کی گئی: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’جو کوئی ایک زرے کی مقدار میں نیکی کرے گا (قیامت کے دن) اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک زرے کے برابر بُرائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " وَلَمْ يَقُلْ : " مِنْهَا حَقَّهَا " ، وَذَكَرَ فِيهِ : " لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا " ، وَقَالَ : " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ " .
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی، البتہ انہوں نے ”جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا“ کہا: اور «ومن حقها» (اور میں سے ان کا حق) کے الفاظ نہیں کہے اور انہوں نے (بھی) اپنی حدیث میں ”وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہ پائے گا“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اسی طرح (ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے) «يكوى بها جنباه وجبخته وظهره» (اس کے دونوں پہلو، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا) کے الفاظ کہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ ، إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قَالَ سُهَيْلٌ : فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا ؟ ، قَالُوا : فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا ، أَوَ قَالَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا ، قَالَ سُهَيْلٌ : أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيُعِدُّهَا لَهُ ، فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا ، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا ، وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا ، وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ ، فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ ، قَالُوا : فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 " ،
عبدالعزیز بن مختار نے کہا: ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی خزانے کا مالک نہیں جو اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، مگر اس کے خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، (یہ) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، پھر اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا جبکہ وہ اونٹ (تعداد اور جسامت میں) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے (وہ) اس کے اوپر دوڑ لگائیں گے۔ جب بھی ان میں آخری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ، اس پر دوبارہ لایا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ (یہ) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھا دیا جائے گا۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے وہ وافر ترین حالت میں جس میں وہ تھیں، ان کے سامنے ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ ان میں نہ کوئی مڑے سینگوں والی ہوگی اور نہ بغیر سینگوں کے۔ جب بھی آخری بکری گزرے گی اسی وقت پہلی دوبارہ اس پر لائی جائے گی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے، اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دکھایا جائے گا۔“ سہیل نے کہا: میں نے نہیں جانتا کہ آپ نے گائے کا تذکرہ فرمایا یا نہیں۔ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے (کا کیا حکم ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تک خیر، گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔۔۔“ یا فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے۔۔۔“ سہیل نے کہا: مجھے شک ہے۔۔۔ (فرمایا) ”گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ یہ ایک آدمی کے لیے باعث اجر ہیں، ایک آدمی کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں۔ اور ایک کے لیے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں۔ وہ گھوڑے جو اس (مالک) کے لیے اجر (کا سبب) ہیں تو (ان کا مالک) وہ آدمی ہے جو انہیں اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) پالتا ہے۔ اور تیار کرتا ہے تو یہ گھوڑے کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں ڈالتے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اگر وہ انہیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ کوئی چیز بھی نہیں کھاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ انہیں کسی نہر سے پانی پلاتا ہے تو پانی کے ہر قطرے کے بدلے جسے وہ اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں۔ اس کے لیے اجر ہے۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی اجر ملنے کا تذکرہ کیا۔۔۔ اور اگر یہ گھوڑے ایک یا دو ٹیلوں (کا فاصلہ) دوڑیں۔ تو اس کے لیے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں، اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ انسان جس کے لیے یہ باعث پردہ ہیں تو وہ آدمی ہے جو انہیں عزت وشرف اور زینت کے طور پر رکھتا ہے۔ اور وہ تنگی اور آسانی (ہر حالت) میں ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں کا حق نہیں بھولتا۔ رہا وہ آدمی جس کے لیے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انہیں ناسپاسی کے طور پر، غرور اور تکبر کرنے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے رکھتا ہے تو وہی ہے جس کے لیے یہ گھوڑے بوجھ کا باعث ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو گدھے (ان کا کیا حکم ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کچھ نازل نہیں کیا: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’تو جو کوئی زرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ،
مذکورہ بالا حدیث مصنف اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، جو سہیل ہی کی سند سے ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ بَدَلَ " عَقْصَاءُ " : " عَضْبَاءُ " ، وَقَالَ : " فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ " ، وَلَمْ يَذْكُر : " جَبِينُهُ " ،
مصنف اپنے ایک اوراستاد سے سہیل کی سند سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ”عقصاء‘‘ بڑے سینگوں والی کی جگہ ”عضباء‘‘ ٹوٹے سینگوں والی ہے،اور اس میں ہے۔ ”فيكوى بها جنبه وظهره‘‘ ان سے اس کے پہلو اور پشت کو داغا جائے گا اور ”جبينه‘‘ (اس کی پیشانی) کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 987
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللَّهِ أَوِ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان اپنے اونٹوں سے اللہ کا حق یا زکاۃ ادا نہیں کرتا۔‘‘ آگے سہیل کے ہم معنی روایت ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا ، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا ، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ ، فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ ، قَالَ : " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا ، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جو بھی اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اسے اپنے اگلے پاؤں اور کھروں سے روندیں گے۔ اور جو گائیوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد ہونے کی صورت میں آئیں گی، اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور جو بکریوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد ہونے کی صور ت میں آئیں گی اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی اور ان میں کوئی بکری بغیر سینگوں کے ہو گی اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی اور نہ ہی کوئی خزانہ کا مالک ہے جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ (سانپ) اسے آواز دے گا: اپنے خزانہ پکڑو! جسے چھپا کر رکھا کرتے تھے۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب صاحب خزان دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت چارہ نہیں تو اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے سانڈھ (نر اونٹ) کی طرح چبائے گا‘‘ ابو زبیر نے کہا: یہ بات میں نے عبید بن عمیر سے سنی تھی بھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح سنائی، ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیرسے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی پر ان کا دودھ دوہنا) تاکہ ضرورت مند لے سکیں) اور اس کا ڈول عاریتہً (پانی پلانے کےلیے) دینا اور ان میں نرکو جفتی کے لیے مانگنے پر عاریتہً دینا، اور اونٹنی کو ”منيحة‘‘ دودھ پینے، اون کاٹنے کےلیے عاریتاً دینا، اور کسی کو جہاد کے لیے سواری کےلیے دینا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا ، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟ ، قَالَ : إِطْرَاقُ فَحْلِهَا ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ ، إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ ، وَيُقَالُ : هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ ، أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
عبدالملک نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں، گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا۔ سموں والا جانور اسے اپنے سموں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا، ان میں سے اس دن نہ کوئی (گائے یا بکری) بغیر سینگ کے ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوگی۔“ ہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ان میں سے نر کو جفتی کے لیے دینا، ان کا ڈول ادھار دینا، ان کو دودھ پینے کے لیے دینا، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دینا۔ اور جو بھی صاحب مال اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگے گا، اسے کہا جائے گا: یہ تیرا وہی مال ہے جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ (چارے کو) چباتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»