حدیث نمبر: 968
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا ، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ، ثُمّ قَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا " .
ثمامہ بن شفی بیان کرتے ہیں کہ ہم سرزمین روم کے جزیرہ بردوس میں، فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، تو ہمارا ایک ساتھی فوت ہو گیا، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا ان کی قبر (عام قبروں کے) برابر بنائی جائے۔ یا اس کی قبر ان کے حکم سے عام قبروں کے برابر بنائی گئی، پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپﷺ اس کے ہموار عام قبروں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ " ،
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔“
حدیث نمبر: 969
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا " .
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے («لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔