مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 945
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون ، وحرملة ، قَالَ هَارُونُ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ ، وَزَادَ الْآخَرَانِ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو اس کے ساتھ رہا حتی کہ اس کو دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ پوچھا گیا: دو قیراط سے کہا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔‘‘ ابو طاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔دوسرے دو اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے جب ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی تو کہنے لگے، ہم نے تو یقیناً بہت سارے قیراط ضائع کر دئیے۔ (ان کےثواب سے محروم رہ گئے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ : " الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ " ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى : " حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا " ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ " ،
یہی روایت مصنف اپنے چار اور اساتذہ سے دو بڑے پہاڑوں تک بیان کرتے ہیں، اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کرتے، عبدالاعلیٰ کی روایت ”حَتَّى تُدْفَنَ‘‘ میں کی جگہ ”حتى يفرغ‘‘ تھا حتیٰ کہ اس سے فارغ ہوا جائے اور عبدالرزاق کی حدیث میں ”حتي توضع في اللحد‘‘ ہے یعنی ”حتیٰ کہ لحد میں اُتار یا رکھ دیا جائے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ : " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ " .
یہی روایت ایک اور استاد سے مروی ہے، اس میں ہے ”جو شخص اس کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ ، قَالَ : أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے (قبرستان) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ ؟ ، قَالَ : مِثْلُ أُحُدٍ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔‘‘ (ابو حازم نے) کہا میں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیراط کی مقدار کیا ہے؟ انھوں نے کہا: احد پہاڑ کے مانند۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا ، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجر ہے۔“ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنائی ہیں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 945
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ " ، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ .
داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے باپ عامر بن سعد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مقصورہ والے خباب آ کر کہنے لگے، اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا آپ جو کچھ ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں سنتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جناوہ اور جو جنازہ پڑھ کر لوٹ آیا، اسے ایک فیراط کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا، اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہ، حتی کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کو اجر کے دو قیراط ملیں گے ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہےاور جس نے اس کی نماز جنازہ اداکی اور لو ٹ آیا اسے ایک احد کے برابر اجر ملے گا‘‘ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا تا کہ وہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے بارے پوچھےﷺ اور پھر انہیں واپس آ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جواب سے آگاہ کریں۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کی کنکریوں سے مٹھی بھر لی اور ان کو لوٹ بوٹ کرنے لگے جتی کہ فرستادہ نے آ کر بتایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کر دی ہے تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جو کنکریاں ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے پر پھینک دیں، پھر کہا ہم نے بہت سارے قیراط ضائع کر دئیے (ان کے ثواب سے محروم ہو گئے)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 946
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " ،
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنائی، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، (ایک) قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 946
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 946
وحَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال : وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ، وَهِشَامٍ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ ؟ ، فَقَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " .
ہشام، سعید اور ابان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند روایت کی، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”احد (پہاڑ) کے مانند۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 946
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔