حدیث نمبر: 940
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ ، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا " ،
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کے راہ میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی اور اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا۔ اور ہم میں سے کچھ لو گ اگلے جہاں اس حال میں گئے کہ انھوں نے (دنیا میں) اپنا کچھ اجر حاصل نہیں کیا، یعنی ان کے دور میں فتوحات کے نتیجہ میں مال و دولت اور آرام و آسائش میسر نہ تھی انہیں میں مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہیں، وہ احد کے دن شہید ہوئے اور انہیں کفن دینے کے لیے دھاری دار چادر کے سوا کچھ نہ ملا اور ہم۔اور ہم جب چادر کو ان کے سر پر رکھتے، ان کے پاؤں کھل جاتے اورجب ہم اسے ان کے پیروں پر رکھتے تو سر کھل جاتا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے سر کے قریب رکھو، اور اس کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔‘‘ اور ہم میں سے بعض کے پھل پک چکے ہیں، (انہیں مال ودولت کی فراوانی حاصل ہے) اور وہ انہیں (پھلوں کو) چن رہا ہے، اسے ہر قسم کی سہولت وآسائش حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 940
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
جریر، عیسیٰ بن یونس، علی بن مسہر اور ابن عیینہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ ، أَمَّا الْحُلَّةُ فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَى النَّاسِ فِيهَا ، أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُكَفَّنَ فِيهَا ، فَتُرِكَتِ الْحُلَّةُ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ " ، فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَأَحْبِسَنَّهَا حَتَّى أُكَفِّنَ فِيهَا نَفْسِي ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ رَضِيَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ لَكَفَّنَهُ فِيهَا ، فَبَاعَهَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحولی بستی کی بنی ہوئی تین سفید چادروں میں کفن دیا گیا، ان کپڑوں میں نہ قمیص (کرتا) تھی اور نہ عمامہ (پگڑی) اور رہا حُلہ (چادروں کا جوڑا) تو اس کے بارے میں لوگوں کو اشتباہ پیدا ہو گیا، آپﷺ کے کفن کے لیے اسے خریدا گیا تھا۔ پھر حلہ چھوڑ دیا گیا اور آپ کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا اور اس حلے کو عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے لے لیا اور کہا: میں اس کو اپنے کفن کے لیے رکھوں گا پھر کہنے لگا اللہ تعالی اسے اپنے نبی کے لیے فرماتا تو آپﷺ کو اس میں کفن دیتا، اس لیے انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دی۔
حدیث نمبر: 941
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ ، كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلَا قَمِيصٌ " ، فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ ، فَقَالَ : أُكَفَّنُ فِيهَا ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُكَفَّنُ فِيهَا ! فَتَصَدَّقَ بِهَا " ،
علی بن مسہر نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ایک یمنی حلے میں لپیٹا (کفن دیا) گیا، پھر اس کو اتار دیا گیا اور آپ کو سحول کے تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اٹھا لیا اور کہا: ”مجھے اس میں کفن دیا جائے گا۔“ پھر کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں کفن نہیں دیا گیا تو مجھے اس میں کیوں کفن دیا جائے گا!“ چنانچہ انہوں نے اس کو صدقہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 941
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وابن إدريس ، وعبدة ، ووكيع . ح وحدثناه يحيى بن يحيى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ قِصَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ .
مصنف صاحب نے یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کی ہے،مگر ان کی حدیث میں عبداللہ بن ابی بکر کا واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 941
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهَا : فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : " فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سَحُولِيَّةٍ " .
ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا، میں نے ان سے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا،تین سفید سحولی کپڑوں میں۔