حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ ، وَالنِّيَاحَةُ " ، وَقَالَ : " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا ، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ " .
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں (موجود) ہیں، وہ ان کو ترک نہیں کریں گے: احساب (باپ دادا کے اصلی یا مزعومہ کارناموں) پر فخر کرنا، (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔“ اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس (کے بدن) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔“
حدیث نمبر: 935
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ : وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَتْ : فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ ، وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ " .
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عمرہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل (شہادت) ہونے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس طرح) مسجد میں (بیٹھے کہ آپ) کے چہرہ انور پر غم کا پتا چل رہا تھا۔ کہا: میں دروازے کی جھری۔۔۔ دروازے کی درز۔۔۔ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! جعفر (کے خاندان) کی عورتیں۔۔۔“ اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا، آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ چلا گیا، وہ (دوبارہ) آپ کے پاس آیا اور بتایا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی، آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ گیا اور پھر (تیسری بار) آپ کے پاس آکر کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! وہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔“ کہا: ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: ”اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! نہ تم وہ کام کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے (بار بار بتا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف (دینا) ترک کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 935
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِيِّ " .
عبداللہ بن نمیر، معاویہ بن صالح اور عبدالعزیز بن مسلم نے یحییٰ بن سعید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور عبدالعزیز کی حدیث میں ہے: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آئے۔“
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَلَّا نَنُوحَ ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسٌ : أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ " .
محمد بن سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی، تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں: ام سلیم، ام علاء، ابوسیرہ کی بیٹی، معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی یا ابوسیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے سوا کسی نے (کماحقہ) اس کی پاسداری نہیں کی۔
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ ، مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ " .
ہشام نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ ”تم نوحہ نہیں کرو گی۔“ ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی (کماحقہ) پاسداری نہیں کی، ان (پانچ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں۔
حدیث نمبر: 936
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 ، وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 ، قَالَتْ : كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا آلَ فُلَانٍ " .
عاصم نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَإِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔ اور کسی نیک کام میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی) کہا: اس (عہد) میں سے ایک نوحہ گری (کی شق) بھی تھی، تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے دور میں (نوحہ کرنے پر) میرے ساتھ تعاون کیا تھا، تو اب میرے لیے بھی لازم ہے کہ میں (ایک بار) ان کے ساتھ تعاون کروں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کے خاندان کے سوا۔“