مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: ”اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
یہ امام صاحب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں، اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب پہنچتا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَصِيحَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی کردیا گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے تو ان پر چیخ وچلا کر رویا گیا، جب انہیں ہوش آیا، تو انہوں نے کہا، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر اس کے خاندان یا زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ ، جَعَلَ صُهَيْبٌ ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .
حضرت ابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، ہائے میرے بھائی! تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا، اے صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس پر زندہ کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي ، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَامَ تَبْكِي أَعَلَيَّ تَبْكِي ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، فَقَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ : إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ .
عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیوں رو رہے ہو؟ کیا مجھ پر رو رہے ہو؟“ کہا: ”اللہ کی قسم! ہاں، امیر المومنین! آپ ہی پر رو رہا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہیں خوب علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“ (عبدالملک بن عمیر نے) کہا: میں نے یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: (یہ) یہودیوں کا معاملہ تھا۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2153)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 927
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَقَالَ : يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " ، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: ”اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 928
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ ، فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍ وَأَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ " ، قَالَ : فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ لِي : اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ ، قَالَ : مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ ، وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ : مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَعْلَمْ ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ ، قَالَ أَيُّوبُ أَوَ قَالَ : أَوَ لَمْ تَعْلَمْ ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ " ، قَالَ : فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً ، وَأَمَّا عُمَرُ ، فَقَالَ : بِبَعْضِ ، فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : " لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ " ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا ، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى ، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى " ، قَالَ أَيُّوبُ : قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَتْ : " إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ " .
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روا یت ہے: کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کے منتظر تھے اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس عمرو بن عثمان بھی عمرو بن عثمان بھی بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو آگے سے پکڑ کر ایک آدمی لے کر آ گیا، میرے خیال میں اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی موجودگی کے بارے میں بتایا تو وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے میں ان دونوں کے درمیان میں تھا اچانک گھر سے آواز بلند ہوئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 928
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 928
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ ، قَالَ : فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا ، قَالَ : فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُيَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَدَّثَ ، فَقَالَ : صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ ؟ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ ، فَقُلْتُ : ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ ، دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ ؟ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ ، وَلَكِنْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ : وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ .
عبداللہ بن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی مکہ میں انتقال ہو گیا تو ہم ان کے جنا زے میں شرکت کے لیے آئے، ابن عمر اور حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی آ گئے۔ میں ان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کیونکہ میں ان میں سے ایک (ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما)کے پاس بیٹھا تھا کہ دوسرا آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن عثمان کو کہا اور وہ ان کے سامنے بیٹھے ہو ئے تھے کیا تم رونے سے نہیں رو کو گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایاہے ”میت کو اس کے گھروالوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 928
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 929
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ .
عمرو، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنازے میں حاضر تھے۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، لیکن عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کو صراحتاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا جبکہ ایوب اور ابن جریج نے آپ کی طرف نسبت کی صراجت کی ہے اور ان دو نوں کی حدیث سے زیادہ کامل ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 929
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 930
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو زندہ کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 930
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 931
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، جميعا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ : الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ ، إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ " .
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بیان کیا گیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے انھوں نے ایک چیز سنی لیکن پوری طرح محفوظ نہیں کی بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ رو رہے تھے تو آپﷺ نے فرمایا: ”تم رو رہے ہو اور اسے سزا مل رہی ہے‘‘ عذاب دیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 931
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَقَالَتْ : وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ " . وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ " ، وَقَدْ وَهِلَ ، إِنَّمَا قَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ " ، ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 ، وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22 ، يَقُولُ : حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ .
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ ”میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ تو انھوں نے کہا: وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما غلطی کر گئے(بھول کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ فرمایا تھا: ”اسے اس کی غلطی یا گناہ کے سبب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں‘‘ اور یہ ان کے اس قول کی طرح ہے کہ آپﷺ بدر کے دن، اس کنویں پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپﷺ نے انہیں جو بات کہی (یعنی ھل وجدتم ما وعدتم جس چیز کی تمہیں دھمکی دی جاتی تھی اس کو پا کیا) یہ نہیں کہا کہ ”میں جو کہہ رہا ہوں، یہ سن رہے ہیں۔ اور آپﷺ کی بات بتانے میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما غلطی کر گئے آپﷺ نے تو بس یہ کہا تھا (انہوں نے جان لیا ہے، میں انہیں جو کچھ بتایا کرتا تھے وہ حق ہے۔‘‘ پھر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آیت پڑھی: ”آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ (نحل،آیت:80) ”اور آپ قبروالوں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ (فاطر،آیت:22) آپ اس وقت کی خبردے رہے ہیں جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 932
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 932
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ .
یہی حدیث امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں لیکن ابواسامہ کی مذکورہ بالا حدیث زیادہ مکمل ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 932
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 932
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا ، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
عمرہ بنت عبدالرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، (اس موقع پر) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے! یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت (کے جنازے) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکا کی جا رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 932
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
وکیع نے سعید بن عبید طائی اور محمد بن قیس سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوفہ میں سب سے پہلے جس پر نوحہ کیا گیا وہ قرظہ بن کعب تھا، اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس پر نوحہ کیا گیا اسے قیامت کے دن اس پر کیے جانے والے نوحے (کی وجہ) سے عذاب دیا جائے گا۔‘“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 933
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں محمد بن قیس نے علی بن ربیعہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 933
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں سعید بن عبید طائی نے علی بن ربیعہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔