حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " .
محمد یعنی جعفر (الصادق) کے فرزند نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ثابت سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر پہلے صدمے کے وقت ہے (اس کے بعد تو انسان غم کو آہستہ آہستہ برداشت کرنے لگتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 926
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " ، فَقَالَتْ : وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي ، فَلَمَّا ذَهَبَ . قِيلَ لَهَا : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَعْرِفْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ " ، أَوَ قَالَ : " عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ " .
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ثابت بنانی کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے (کی موت) پر رو رہی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو۔“ اس نے کہا: ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا؟“ جب آپ چلے گئے تو اس کو بتایا گیا کہ وہ (تمہیں صبر کی تلقین کرنے والے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو اس عورت پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی، وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دربان نہ پایا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے (اس وقت) آپ کو نہیں پہچانا تھا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حقیقی) صبر پہلے صدمے یا صدمے کے آغاز ہی میں ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 926
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالُوا جَمِيعًا ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ " .
خالد بن حارث، عبدالملک بن عمرو، اور عبدالصمد سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی۔ اور عبدالصمد کی حدیث میں (یہ جملہ) ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس (بیٹھی ہوئی) ایک عورت کے پاس سے گزرے۔