مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 922
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي ، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَلَمْ أَبْكِ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، میں نے (دل میں) کہا: پردیسی، پردیس میں (فوت ہو گیا) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہو گا، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کر لی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی، وہ (رونے میں) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شیطان کو اس گھر میں (دوبارہ) داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟“ دو بار (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے) تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 922
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 923
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ ، أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ : ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى ، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " ، فَعَادَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
حماد بن زید نے عاصم احول سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا بچہ۔۔۔ یا اس کا بیٹا۔۔۔ موت (کے عالم) میں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والے سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، اور ان کو بتا دو کہ وہ صبر کریں اور اجر و ثواب کی طلب گار ہوں۔“ پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا: انہوں نے (آپ کو) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں۔ کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، (جسم اس طرح مضطرب تھا) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہو تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 923
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 923
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ .
اور امام صاحب اپنے بعض دوسرے اساتذہ سے، مذکورہ سند سےہی مذکورہ بالاروایت بیان کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں حماد کی مذکورہ روایت،کامل اور طویل ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 923
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ ، فَقَالَ : " أَقَدْ قَضَى " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا ، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، أَوْ يَرْحَمُ " .
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انہیں غشی کی حالت میں پایا، آپ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے اپنی مدت پوری کر لی (وفات پا گئے ہیں)؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس۔۔۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 924
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔