حدیث نمبر: 920
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ (موت کے بعد) ان کی آنکھیں اوپر کو کھلی ہوئی تھیں تو آپﷺ نے انھیں بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے (روح جسم سے نکال لی جاتی ہے) تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔‘‘ (اس لیے آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں) (آپﷺ کی یہ بات سن کر) ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا چلا کر رونے لگے (رنج اور صدمہ کی حالت میں ان کی زبان سے ایسی باتیں نکلنے لگیں جو ان کے حق میں بد دعا تھیں) تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے نفسوں کے حق میں خیر اور بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حود اس طرح دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مغفرت فرما، اور اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور اس کا جانشین بن جا (اس کے بجائے تو ہی سر پرستی اور نگرانی فرما) اس کے پس ماندگان کی اور اے کائنات کے مالک! بخشش دے ہمیں اور اس کو اور اس کی قبر کو اس کے لیے وسیع اور روشن فرما۔‘‘
حدیث نمبر: 920
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ " ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ " ، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ : " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا " .
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔