مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مریض اور میت کے پاس کیا کہنا چاہیئے؟
حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ابوسلمہ وفات پا گئے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم (یہ کلمات) کہو: ’اے اللہ! مجھے اور اس کو معاف فرما اور اس کے بعد مجھے اس کا بہترین بدل عطا فرما۔‘“ کہا: میں نے (یہ کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد وہ دے دیا جو میرے لیے ان سے بہتر ہے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجنائز / حدیث: 919
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔