حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ " . وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ " .
امام مالک رحمہ اللہ بن انس اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فرمایا اور بہت ہی لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے (کچھ) کم تھا پھر آپ نے (دوبارہ) رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے فارغ ہو کر) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انہیں (اس حالت میں) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی نہیں جو (اس بات پر) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے! اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں۔ تو تم بہت زیادہ روؤ اور بہت کم ہنسو۔ دیکھو! کیا میں نے (پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا؟“ اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔“
حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ " ، وَزَادَ أَيْضًا : " ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " .
مصنف صاحب مذکورہ بالا روایت ایک دوسری سند سے لائے ہیں۔ اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپﷺ نے فرمایا: ”حمد وصلاۃ کے بعد، سورج اور چاند اللہ کی قدرت وکاریگری کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘اور یہ بھی اضافہ ہے۔ پھر آپﷺ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے بات پوری طرح پہنچا دی یعنی اپنا فرض ادا کردیا۔‘‘
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، ثُمَّ سَجَدَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ " ، وَقَالَ أَيْضًا : " فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ " ، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : " أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ " . وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ : " فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے آئے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لو گوں نے آپﷺ کے پیچھے صف باندھ لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قراءت کی پھر الله اكبر کہ کر طویل رکو ع کیا پھر آپﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَه رَبَّنَا وَلَكَ الحَمدُ کہا پھر کھڑے ہو گئے اور طویل قراءت کی جو پہلی (قراءت) سے کم تھی۔ پھر الله اكبر کہہ کر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَه رَبَّنَا وَلَكَ الحَمدُ کہا پھر سجدے کیے اور ابو طاہر نے سجدہ کا ذکر نہیں کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے۔ آپﷺ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپﷺ نے کھڑے ہو کر لو گوں کو خطاب فرمایا اور اللہ تعا لیٰ کے شایان شان اس کی ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی (قدرتِ قاہرہ اور جلال وجبروت کی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں وہ کسی کی مو ت کی وجہ سے گہناتے ہیں نہ کسی کی پیدائش پر۔ جب تم انھیں گرہن میں دیکھو تو فوراً نماز کی پناہ لو۔‘‘ اور فرمایا: اور نماز پڑھو حتی کہ اللہ تمھاری مصیبت دور کر کے کشادگی کر دے‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی اس جگہ وہ چیز دیکھ لی جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں جس وقت تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں۔‘‘ حرملہ نے اقدم کہا اور مرادی نے اتقدم، آگے بڑھ رہا ہوں) اور میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ، دوسرے حصہ کو ریزہ ریزہ کر رہا ہے۔ جس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا، اور میں نے جہنم میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے سائبہ کوچھوڑا۔‘‘ ابوطاہر کی روایت ”فافزعوا إلى الصلاة‘‘ فوراً نماز کی پناہ لو‘‘ پر ختم ہوگئی۔ اس نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا ، وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گہن لگ گیا، تو آپﷺ نے ایک منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ اعلان کرے ”نماز کے لیے حاضر ہو جاؤ‘‘ لوگ جمع ہو گئے۔ آپﷺ نے آگے بڑھ کر تکبیر تحریمہ کہی اور دو رکعت میں چار رکوع اور چارسجدے کیے۔
حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
عبدالرحمان بن نمر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن شہاب سے سنا، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخسوف (چاند یا سورج گرہن کی نماز) میں بلند آواز سے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کر کے نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 902
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 902
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ : كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ .
محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گرہن والے دن کی نماز (اسی طرح) بیان کرتے تھے جس طرح عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔
حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپﷺ نے بڑا پُر مشقت قیام کیا۔ سیدھے کھڑے ہوتے، پھر رکوع میں چلے جاتے، پھر کھڑے ہوتے۔ پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے، دو رکعت میں (ہر رکعت میں) تین رکوع اور چار سجدےکیے اس وقت سلام پھیرا جب سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو سَمِعَ الله لِمَن حَمِدَه رَبَّنَا کہتے۔ پھر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بےنور نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی کی ولادت پر، بلکہ وہ اللہ کی (وحدانیت اور ربوبیت کے) نشانات میں سے ہیں، ان کے ان کو بے نور کر کے وہ اپنے بندوں کو (اپنی قوت و طاقت اور غضب سے) ڈراتا ہے۔ جب تم ان کو گہن لگا دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہوجائیں۔‘‘
حدیث نمبر: 901
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسوف میں) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی۔