حدیث نمبر: 806
806 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحُمِلْتُ فِيهَا عَلَي بَكْرٍ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ عَلَي يَدِهِ، فَانْتَزَعَهَا مَنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَي النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ، وَأَهْدَرَهَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شریک ہوا میں نے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں ایک جوان اونٹ دیا تھا جو میرے نزدیک میرا سب سے بہترین عمل تھا۔ میں نے اس شخص کو ملازم رکھا اس کی ایک اور شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو پہلے شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا؟ تاکہ تم اسے یوں چبا لیتے۔ جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نقصان کو کالعدم قرار دیا۔