حدیث نمبر: 771
771 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَي جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَي سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَي يُؤْمَرُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَي اللَّهِ تَوَكَّلْنَا "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں نعمتوں سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہوں؟ جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی چمکی ہوئی ہے، اور اس نے اپنی سماعت کو متوجہ رکھا ہوا ہے، اور وہ اس بات کا انتظار کر رہا ہے، اسے کب حکم ہوگا؟ (کہ وہ صور میں پھونک مار دے)“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو۔ «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» ”ہمارے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ہم اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرتے ہیں۔“