مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 758
حدیث نمبر: 758
758 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: ثنا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، جَاءَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَي أَنْ يَجْلِسَ حَتَّي صَلَّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَي الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا كُنْتُ لِأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَلَّيْتَ» ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَي الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَي النَّاسُ ثِيَابًا، فَأَعْطَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَي، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَي الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَي، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَي الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَطَرَحَ الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «خُذْهُ، فَأَخَذَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: " انْظُرُوا إِلَي هَذَا، جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَي أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُ: لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًي، وَلَا غِنًي بِهَذَا عَنْ ثَوْبِهِ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
عیاض بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ تشریف لائے۔ مروان اس وقت جمعہ کے دن کا خطبہ دے رہا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ دو رکعات ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے سپاہی ان کے پاس آئے تاکہ انہیں زبردستی بٹھا دیں، تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا اور دو رکعات ادا کیں جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: اے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی ناروا سلوک کرتے، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بولے: میں نے ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو کچھ دیکھا ہے اس کے بعد میں کسی اور وجہ سے ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا۔ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، یاد ہے، ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ وہ شخص اس وقت عام سی حالت میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعت ادا کر لو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو لوگوں نے اپنے کپڑے صدقہ کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ان کپڑوں میں سے دو کپڑے عطا کئے۔ جب اگلا جمعہ آیا، تو ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے دو رکعات ادا کر لی ہیں؟ اس نے عرض کی: ”جی نہیں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعات ادا کر لو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، تو لوگوں نے اپنے کپڑے دئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ان میں سے دو کپڑے دے دئے۔ جب اس سے اگلا جمعہ آیا، تو ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے دو رکعات ادا کر لی ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعات ادا کر لو“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کئے تو اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا وہاں رکھ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں اسے پکارا اور فرمایا: ”تم اسے حاصل کر لو۔“ اس نے اسے لے لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو دیکھو۔ یہ اس دن برے حال میں جمعے کے دن آیا تھا۔ میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کئے تو میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئے۔ اب جب یہ اس جمعے آیا ہے، تو میں لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس نے دو میں سے ایک کپڑا دے دیا ہے۔“ سفیان یہ کہا کرتے تھے۔ صدقہ وہ ہوتا ہے، جسے کرنے کے بعد بھی آدمی خوشحال رہے۔ اور وہ شخص اگر کپڑا دے دیتا تو پھر اس کے پاس خوشحالی نہیں رہنی تھی۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 758
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث تخریج «إسناده حسن وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1799، 1830، 2481، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2503، 2505، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1058، 1513، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1407، 2535، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1731، 2328، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1675، والترمذي فى «جامعه» برقم: 511، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1593، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1113، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5775، 5897، 7872، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11248 برقم: 11367»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔