مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: پہلی رکعت (میں قرآت) طویل ہونی چاہئے۔
حدیث نمبر: 779
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں ( قرآت ) طویل کرتے تھے اور دوسری رکعت میں مختصر ۔ صبح کی نماز میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان (صفة الصلوة) / حدیث: 779
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔