حدیث نمبر: 686
686 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَي الْقِيمَةِ» ، أَوْ قَالَ: «قِيمَةُ عَدْلٍ لَا وَكْسٍ، وَلَا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرُمُ لِصَاحِبِهِ حِصَّتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ»، قَالَ سُفْيَانُ: «كَانَ عَمْرٌو يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو غلام دو آدمیوں کی ملکیت ہو اور دونوں میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے۔ اگر وہ شخص خوشحال ہو، تو اس غلام کی منصفانہ طور پر کسی کمی بیشی کے بغیر مناسب قیمت لگائی جائے گی اور پھر وہ شخص اپنے ساتھی کو اس کے حصے کی تاوان کی رقم ادا کرے گا اور اس غلام کو (مکمل طور پر) آزاد کر دے گا۔“ سفیان کہتے ہیں: عمر و کو اس روایت کے اس طرح ہونے میں شک ہے۔