حدیث نمبر: 650
650 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثني زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَعَلَّمَنِي، فَقَالَ: «إِذَا جِئْتَ فَاسْتَأْذِنْ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ فَسَلِّمْ إِذَا دَخَلْتَ»¤ وَمَرَّ ابْنُ ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ جَدِيدٌ يَجُرُّهُ، فَقَالَ لَهُ: أَيْ بُنَيَّ ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَي مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا تو میں اجازت لیے بغیر ان کے ہاں اندر چلا گیا انہوں نے مجھے تعلیم دی اور فرمایا: جب تم آؤ تو پہلے اندر آنے کی اجازت لو، اگر تمہیں اجازت مل جائے، تو اندر داخل ہو کر تم سلام کرو۔ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پوتا عبداللہ بن واقد وہاں سے گزرا اس نے نیا لباس پہنا ہوا تھا، اور وہ دامن لٹکا کر چل رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اپنے تہبند کو اوپر کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرتا جو اپنے کپڑے کو تکبر کے طور پر لٹکاتا ہے۔“