حدیث نمبر: 647
647 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَي النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَرَي رُؤْيَاكُمْ تَوَاطَأَتْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي الْوِتْرِ مِنْهَا أَوْ فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي» قَالَ سُفْيَانُ: «الشَّكُّ مِنِّي لَا مِنَ الزُّهْرِيِّ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میں نے شب قدر کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ فلاں فلاں رات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگوں کے خواب ایک جیسے ہیں، تو تم آخری عشرے میں طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) باقی رہ جانے والی سات راتوں میں تلاش کرو۔“ سفیان کہتے ہیں: روایت میں یہ شک میری طرف سے ہے، زہری کی طرف سے نہیں ہے۔