کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَار ، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ ، قَالَتْ : وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْر : أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ انصار کی دو بچیوں میں سے دوبچیاں انصار نے جنگ بعاث کے وقت جو اشعار کہے تھے گا رہی تھیں۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں وہ کوئی باقاعدہ فنکار نہ تھیں اور گانا ان کا پیشہ نہ تھا۔ تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی ساز کی آواز؟ اور یہ عید کا دن تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بکر! ہر قوم کے لئے ایک مسرت اور شادمانی کا دن ہے اور یہ ہمارا تہوار یا جشن مسرت ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : " وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ " .
امام صاحب ایک دوسری سند سے یہی روایت لائے ہیں اور اس میں ہے کہ دوبچیاں دف بجا رہی تھیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ ، وَقَالَ : " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ " . وَقَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ .
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں عروہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں۔ اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”ابوبکر! انہیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“ اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین، نو عمر تھی (وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي ، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ " .
یونس نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھیل (مشقیں کر رہے) تھے۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو (کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعْهُمَا " ، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا ، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِمَّا قَالَ : " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ " ، حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ ، قَالَ : " حَسْبُكِ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاذْهَبِي " .
محمد بن عبدالرحمان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے اشعار بلند آواز سے سنا رہی تھیں۔ آپ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ (دوسری سمت) پھیر لیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو انہوں نے مجھے سرزنش کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آواز؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”انہیں چھوڑیئے۔“ جب ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی توجہ ہٹی تو میں نے ان کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ اور عید کا ایک دن تھا، کالے لوگ ڈھالوں اور بھالوں کے کرتب دکھا رہے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی یا آپ نے خود ہی فرمایا: ”دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر (لگ رہا) تھا اور آپ فرما رہے تھے: ”اے ارفدہ کے بیٹو! (اپنا مظاہرہ) جاری رکھو۔“ حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”تو چلی جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ ، حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عید کے دن حبشی مسجد میں اچھل کود کرنے یعنی ہتھیاروں کا مظاہرہ کرنے آئے تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور میں نے اپنا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل (کرتب) دیکھنے لگی حتی کہ میں خود ہی ان کے کھیل کے دیکھنے سے واپس پلٹ گئی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْمَسْجِدِ .
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور محمد بن بشر دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی طرح) روایت کی اور انہوں نے فی المسجد (مسجد میں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 892
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلهم ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ ، قَال : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ ، قَالَتْ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ " ، قَالَ عَطَاءٌ : " فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ ؟ " قَالَ : وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ : " بَلْ حَبَشٌ " .
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا: میں ان کا کھیل دیکھنا چاہتی ہوں۔ کہا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں دروازے پر کھڑی ہو کر آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے۔ عطاء نے کہا: وہ ایرانی تھے یا حبشی۔ اور کہا: مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 893
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ ، إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لیے جھکے تاکہ وہ انہیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 893
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»