کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا آپﷺ کی نماز درمیانی تھی اور آپﷺ کا خطبہ درمیانہ تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 866
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ سِمَاكٍ .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا آپﷺ کی نماز بھی درمیانی تھی اور آپﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 867
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، يَقُولُ : " صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ " ، وَيَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " ، وَيَقُولُ : " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " ، ثُمَّ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " .
عبدالوہاب بن عبدالمجید (ثقفی) نے جعفر (صادق) بن محمد (باقر) سے روایت کی انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور جلال کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی حتیٰ کہ ایسا لگتا جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فرما رہے ہیں کہ وہ (لشکر) صبح یا شام (تک) تمہیں آ لے گا اور فرماتے: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ اور آپ اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھاتے اور فرماتے: ”(حمد و صلاۃ) کے بعد بلاشبہ بہترین حدیث (کلام) اللہ کی کتاب ہے اور زندگی کا بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ زندگی ہے اور (دین میں) بدترین کام وہ ہیں جو خود نکالے گئے ہوں اور ہر نیا نکالا ہوا کام گمراہی ہے۔“ پھر فرماتے: ”میں ہر مومن کے ساتھ خود اس کی نسبت زیادہ محبت اور شفقت رکھنے والا ہوں جو کوئی (مومن اپنے بعد) مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے اہل و عیال (وارثوں) کا ہے اور جو مومن قرض یا بے سہارا اہل و عیال چھوڑ گیا تو (اس قرض کو) میری طرف لوٹایا جائے (اور اس کے کنبے کی پرورش) میرے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 867
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ ، وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ " ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ .
سلیمان بن بلال نے کہا: مجھ سے جعفر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے جمعے کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اس طرح ہوتا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے پھر اس کے بعد آپ (اپنی بات ارشاد فرماتے اور آپ کی آواز بہت بلند ہوتی۔۔۔ پھر اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 867
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ " ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ .
سفیان نے جعفر سے انہوں نے اپنے والد (محمد باقر) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو (اس طرح) خطبہ دیتے پہلے اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کرتے پھر فرماتے: ”جسے اللہ سیدھی راہ پر چلائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ سیدھی راہ سے ہٹا دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور بہترین بات (حدیث) اللہ کی کتاب ہے۔۔۔“ آگے (عبدالوہاب بن عبدالمجید) ثقفی کی حدیث (2005) کے مانند ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 868
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كلاهما ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ : إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ ، فَقَالَ : لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ ، وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ ، فَهَلْ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَمَّا بَعْدُ " ، قَالَ : فَقَالَ : أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ ، قَالَ : فَقَالَ : هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَبَايَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَى قَوْمِكَ " ، قَالَ : وَعَلَى قَوْمِي ، قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ : هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً ، فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آیا، وہ (قبیلہ) ازد شنوء سے تھا اور آسیب کا دم کیا کرتا تھا (جسے لوگ ریح کہتے تھے، یعنی ایسی ہوا جو نظر نہیں آتی، اثر کرتی ہے) اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون ہو گیا ہے (نعوذ باللہ) اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے۔ کہا: وہ آپ سے ملا اور کہنے لگا: اے محمد! میں اس نظر نہ آنے والی بیماری (ریح) کو زائل کرنے کے لیے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے تو آپ کیا چاہتے ہیں (کہ میں دم کروں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) کہا: ”ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ہادی لہ واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ اما بعد“ یقیناً تمام حمد اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں، جس کو اللہ سیدھی راہ پر چلائے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہی اکیلا (معبود) ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے، اس کے بعد! کہا: وہ بول اٹھا: اپنے یہ کلمات مجھے دوبارہ سنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرائے۔ اس پر اس نے کہا: میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں (سب) کے قول سنے ہیں، میں نے آپ کے ان کلمات جیسا کوئی کلمہ (کبھی) نہیں سنا، یہ تو بحر (بلاغت) کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور کہنے لگا: ہاتھ بڑھایئے! میں آپ کے ساتھ اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ کہا: تو اس نے آپ کی بیعت کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تیری (طرف سے تیری) قوم (کے اسلام) پر بھی (تیری بیعت لیتا ہوں)“ اس نے کہا: اپنی قوم (کے اسلام) پر بھی (بیعت کرتا ہوں) اس کے بعد آپ نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا، وہ ان کی قوم کے پاس سے گزرے تو امیر لشکر نے لشکر سے پوچھا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے اس نے کہا: اسے واپس کر دو کیونکہ یہ (کوئی اور نہیں بلکہ) ضماد کی قوم ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 869
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ ، مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
ابووائل نے کہا: ہمارے سامنے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ انتہائی مختصر اور انتہائی بلیغ (بات کی) جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: ابویقظان! آپ نے انتہائی پر تاثیر اور انتہائی مختصر خطبہ دیا ہے، کاش! آپ سانس کچھ لمبی کر لیتے (زیادہ دیر بات کر لیتے) انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انسان کی نماز کا طویل ہونا اور اس کے خطبے کا چھوٹا ہونا اس کی سمجھداری کی علامت ہے، اس لیے نماز لمبی کرو اور خطبہ چھوٹا کرو، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بیان جادو (کی طرح) ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 869
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 870
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ، قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فَقَدْ غَوِيَ .
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں خطاب کیا اور اس میں کہا: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے رشدوہدایت پا لی اور جو ان کی نافرمانی کرے گا یا جس نے ان دونوں کا نافرمانی کی وہ بھٹک گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بہت برا خطیب ہے، یوں کہو، جس نے اللہ کی اور اس کے ر سول کی نافرمانی کی (وہ گمراہ ہوا۔)‘‘ ابن نمیر کی روایت میں ”غَوِيَ‘‘ کی واؤ پر زیر ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 870
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق الْحَنْظَلِيُّ ، جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ عَطَاءً يُخْبِرُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77 " .
صفوان کے والد حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر پڑھ رہے تھے: ”وَنَادَوْا یَا مَالِکُ“ اور وہ پکاریں گے: اے مالک! (الزخرف 43:77)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 871
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 872
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ ، قَالَتْ : " أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ " .
عمرہ بنت عبدالرحمان کی بہن بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ﴿ق والقرآن المجید﴾ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ہے۔ آپ اسے ہر جمعہ منبر پر پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 872
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 872
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ .
یحییٰ بن ایوب نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے اپنی بہن سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، روایت کی۔۔۔ سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 872
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 873
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ " ، قَالَتْ : " وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا " .
عبداللہ بن محمد بن معن نے حارثہ بن نعمان کی بیٹی (ام ہشام) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے سورہ ”ق“ (کسی اور سے نہیں براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے میں اسے پڑھ کر خطاب فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 873
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 873
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ ، وَمَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، إِذَا خَطَبَ النَّاسَ " .
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ”ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ“ (کسی اور سے نہیں بلکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 873
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 874
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، قَالَ : رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ ، " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ " .
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اور انہوں نے حضرت عمارہ بن رویبہ (ثقفی) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انہوں نے بشر بن مروان (بن حکم، عامل مدینہ) کو منبر پر (تقریر کے دوران) دونوں ہاتھ بلند کرتے دیکھا تو کہا: اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو بگاڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 874
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 874
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ " ، فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
حصین بن عبدالرحمان کی روایت ہے کہ میں نے جمعہ کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا۔ تو عمارہ بن رویبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا۔ مذکورہ بالاروایت بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجمعة / حدیث: 874
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»