حدیث نمبر: 851
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ " .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر نے حدیث بیان کی، ابن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے عقیل بن خالد سے خبر دی انہوں نے بن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو (اس وقت) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو تو تم نے فضول گوئی کی۔“
حدیث نمبر: 851
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَعَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
عبدالملک بن شعیب بن لیث نے کہا: مجھ سے میرے والد شعیب نے میرے دادا لیث سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھ سے عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے انہوں نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ سے روایت کی نیز انہوں نے (ابن شہاب زہری) نے ابن مسیب سے بھی روایت کی ان دونوں (عمر بن عبدالعزیز اور سعید بن مسیب) نے ان (بن شہاب) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔۔۔ (آگے اسی سند حدیث) کے مانند ہے۔
حدیث نمبر: 851
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، قَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ .
امام صاحب ایک اورسند سے یہی روایت بیان کرتےہیں، سند کے ایک راوی کے نام میں تھوڑا سا فرق ہے، کہ اس سے پہلی روایت میں عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہا گیا تھا اور اس میں ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ آیا ہے۔
حدیث نمبر: 851
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَقَدْ لَغِيتَ " . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ فَقَدْ لَغَوْتَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے، کہا، چپ رہ تو تو نے بے جا اور غلط کام کیا۔‘‘ ابوزناد کہتے ہیں، اصل لغت، ”فَقَدْ لَغَوْتَ‘‘ ہے لیکن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لغت، ”فَقَدْ لَغِيتَ‘‘ ہے۔