حدیث نمبر: 846
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ ، حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَسِوَاكٌ ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ " . إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ : فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ .
سعید بن ابی بلال اور بکیر بن اشج نے ابوبکر بن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن سلیم سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے اور مسواک کرنا بھی اور (ہر شخص) اپنی استطاعت کے مطابق خوشبو استعمال کرے۔“ البتہ بکیر نے (سند میں) عبدالرحمان کا ذکر نہیں کیا اور خوشبو کے بارے میں کہا: ”چاہے وہ عورت کی خوشبو کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " ، قَالَ طَاوُسٌ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ .
روح بن عباوہ اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ طاوس نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: میں یہ بات نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 848
وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
مصنف نے مذکورہ بالا حدیث ایک دوسری سند سے بھی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 849
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ " .
طاوس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں (کم سے کم) ایک بار نہائے اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے۔“
حدیث نمبر: 850
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ ، حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گو یا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا ایک مرغ قربان کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا صدقہ کیا کیونکہ جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ (یادہانی)سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔‘‘