حدیث نمبر: 553
553 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كَمْ مَرَّةٍ لَا أُحْصِيهِ لَا أَعُدُّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَي جَنْبِهِ وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّي أَتَي الْمُزْدَلِفَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ «كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ؟ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ» قَالَ سُفْيَانُ قَالَ هِشَامٌ «وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا، وہ عرفہ سے مزدلفہ آنے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس رفتار سے چلے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار سے چلتے رہے تھے، جب کوئی بلندی آتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفتار ذرا تیز کر دیتے تھے۔ سفیان نے ہشام کا یہ قول نقل کیا ہے نص کا لفظ عنق کے مقابلے میں ذرا زیادہ تیز رفتار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔