مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: عمرو بن عبسہ کا اسلام قبول کرنا۔
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : وَلَقِيَ شَدَّادٌ ، أَبَا أُمَامَةَ ، ووَاثِلَةَ ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ : كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ ، فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا ، فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَآءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا أَنْتَ ، قَالَ : " أَنَا نَبِيٌّ " ، فَقُلْتُ : وَمَا نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " أَرْسَلَنِي اللَّهُ " ، فَقُلْتُ : وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ " ، قُلْتُ لَهُ : فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " ، قَالَ : " وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ " ، فَقُلْتُ : إِنِّي مُتَّبِعُكَ ، قَالَ : " إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا ، أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ ، فَأْتِنِي " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي ، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ ، وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ ، فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ ؟ فَقَالُوا : النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ ، أَخْبِرْنِي ، عَنِ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ ، حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ، ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ ، فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ ، فَقَالَ عَمْرٌو : يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي ، وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .
عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میںجب جاہلیت میں تھا توسمجھتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور ان کے دین کی کوئی حیثیت نہیں ہے جبکہ وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، میں نے مکہ کے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ بہت سی باتیں بتاتا ہے، میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس پہنچ گیا، میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے ہیں آپ کی قوم (کے لوگ) آپ کے خلاف دلیر،اور جری ہیں۔ میں ایک چارہ (بہانہ)ٰکر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے پوچھا، آپ کے کیا حیثیت ہیں؟ آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نبی ہوں۔‘‘ پھر میں نے پوچھا: ”نبی کی حقیقت اور صفت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔‘‘ تو میں نے کہا: آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے، اور اللہ تعالیٰ کو ایک قرار دینے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دے کر بھیجا ہے۔‘‘ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کے ساتھ کس نے اس پیغام کو قبول کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آزاد اور ایک غلام۔‘‘ راوی بتاتے ہیں طہ اس وقت آپﷺ پر ایمان لانے والوں میں سے ابو بکر اور بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے۔ میں نے کہا: میں آپﷺ کا پیرو کار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے اس وقت کے اس کی طاقت نہیں رکھتے، کیا تم میری خالت اور لوگوں کی حابت نہیں دیکھ رہے؟‘‘ کہ لوگ میرے ساتھ کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن ا س وقت اپنے گھر لوٹ جاؤ اور جب میرے بارے میں سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو میرے پاس آ جانا۔‘‘ تو میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے، اور میں اپنے گھر میں ہی آپﷺ کے بارے میں حالات معلوم کرتا رہتا تھا، اور لوگوں سے پوچھتا رہتا جبکہ آپﷺ مدینہ آ چکے تھے، حتی کہ میرے پاس اہل یثرب یعنی مدینہ کےکچھ لوگ آئے تو میں نے پوچھا: یہ مدینہ سے آنے والے آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: لوگ تیزی سے اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں، یعنی اس کے دین کو قبول کر رہے ہیں۔ آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن وہ ایسا نہ کرسکے۔ اس پر میں مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”ہاں تو وہی ہے جو مجھے مکہ میں ملا تھا؟‘‘ تو میں نے کہا: ہاں، اور پوچھا: اے اللہ کے نبی! مجھے بتایئے جو اللہ نے آپ کوسکھایا ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں، مجھے نماز کے بارے میں بتایئے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”صبح کی نماز پڑھ اور پھر نمازسے رک جا حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کےدرمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کو (سورج) سجدہ کرتے ہیں، پھر نماز پڑھ کیونکہ نماز کی گواہی دی جاتی ہے اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ نیزہ کا سایہ اس کے برابرہو جائے تو پھر نماز سے رک جا کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پھر جب سایہ پھیلمنا شروع ہوجائے(سورج ڈھل جائے) تو نمازپڑھو کیونکہ نماز کے لیے فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں حتیٰ کہ عصر سے فارغ ہوجائے، پھر نماز سے باز آ جا یہاں تک کہ سورج پوری طرح غروب ہوجائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں میں غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ ا س پر میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تو وضو؟ مجھے اس کے بارے میں بھی بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جوشخص بھی وضو کے لئے پانی لاتا ہے اور کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی کھینچ کر اسے جھاڑتا ہے تو اس سے اس کے چہرے، منہ،اور ناک کے نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں،پھر جب وہ اپنے چہرے کو اللہ کے حکم کےمطابق دھوتا ہے تو اس کی داڑھی کے اطراف سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ گر جاتے ہیں، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے۔ تو اس کے ہاتھوں کےگناہ اس کے پوروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں، پھر وہ اپنے دونوں قدم ٹحنوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ، اس کے پوروں سے پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ کی حمد و ثناء اور اس کے شایان شان بزرگی بیان کرتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے (ہر قسم کے خیالات و تصورات سے) خالی کر لیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح اس نکلتا ہے جس طرح ماں نے اسے جنا ہوتا ہے‘‘ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! سوچو تم کیا کہہ رہے ہو۔ ایک ہی جگہ اس آدمی کو اتنا کچھ مل جاتا ہے! اس پر عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں میری ہڈیاں بھی سن رسیدہ ہوگئی ہیں (کمزور ہو گئی ہیں) اور میری موت کا وقت بھی قریب آچکا ہے اور مجھے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں چھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک، دو، تین۔۔۔ حتیٰ کہ انھوں نے سات دفعہ گنا (شمار کیا) نہ سنا ہوتا تو میں اس حدیث کو کبھی بھی بیان نہ کرتا۔ لیکن میں نے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس سے بھی زیادہ دفعہ سنا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 832
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔