مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور ایک رکعت میں دو یا دو سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ ، أَلِفًا تَجِدُهُ ، أَمْ يَاءً مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ ، أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَكُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ ، نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ ، الرُّكُوعُ ، وَالسُّجُودُ ، إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَقُلْ : نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے وکیع سے، انہوں نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی جو نہیک بن سنان کہلاتا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ابوعبدالرحمن! آپ اس کلمے کو کیسے پڑھتے ہیں؟ آپ اسے الف کے ساتھ «مِّن مَّاءٍ غَیْرِ آسِنٍ» سمجھتے ہیں یا پھر یاء کے ساتھ «مِّن مَّاءٍ غَیْرِ یاسِنٍ»؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تم نے اس لفظ کے سوا تمام قرآن مجید یاد کر لیا ہے؟ اس نے کہا: میں (تمام) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتا ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شعر کی سی تیز رفتاری کے ساتھ پڑھتے ہو؟ کچھ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا، لیکن جب وہ دل میں پہنچتا اور اس میں راسخ ہوتا ہے تو نفع دیتا ہے۔ نماز میں افضل رکوع اور سجدے ہیں اور میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے، دو دو (ملا کر) ایک رکعت میں پڑھتے تھے، پھر عبداللہ اٹھ کر چلے گئے، اس پر علقمہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہا: مجھے انہوں نے وہ سورتیں بتا دی ہیں۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا: بنو بجیلہ کا ایک شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) کے پاس آیا، انہوں نے "نہیک بن سنان" نہیں کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 822
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، يُقَالُ لَهُ : نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَجَاءَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَكْعَةٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ .
امام صاحب ایک دوسرے استاد سے نقل کرتے ہیں کہ ابووائل نے بتایا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا۔ اس کے آخر میں ہے کہ علقمہ آئے تا کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں تو ہم نے ان سے کہا: عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان باہم ملتی جلتی سورتوں کے نام پوچھنا جنہیں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ وہ ان کے پاس اندر چلے گئے اور ان سے ان سورتوں کے بارے میں پوچھا، پھر ہمارے پاس تشریف لائے اوربتایا، وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ترتیب کے مطابق مفصل کی(تقریباً) بیس سورتیں ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 822
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا ، وَقَالَ : إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " اثْنَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ، عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ " .
عیسیٰ بن یونس نے کہا: اعمش نے ہم سے اپنی اسی سند کے ساتھ ان دونوں (وکیع اور ابومعاویہ) کی حدیث کی طرح بیان کی۔ اس میں ہے انہوں (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے، بیس سورتیں دس رکعتوں میں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاة ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ ، فَأَذِنَ لَنَا ، قَالَ : فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً ، قَالَ : فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ ، فَقَالَتْ : أَلَا تَدْخُلُونَ ؟ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ ، قَالَ : ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ ، حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ ؟ قَالَ : فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ ، فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، قَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ ؟ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا ، فَقَالَ : مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ ، حم " .
مہدی بن میمون نے کہا: واصل حدب نے ہمیں ابووائل سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے دروازے سے (انہیں) سلام عرض کیا، انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی، ہم کچھ دیر دروازے پر رکے رہے، اتنے میں ایک بچی نکلی اور کہنے لگی: کیا آپ لوگ اندر نہیں آئیں گے؟ ہم اندر چلے گئے اور وہ بیٹھے تسبیحات پڑھ رہے تھے، انہوں نے پوچھا: جب آپ لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو پھر آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ ہم نے عرض کی: نہیں (رکاوٹ نہیں تھی)، البتہ ہم نے سوچا (کہ شاید) گھر کے بعض افراد سوئے ہوئے ہوں۔ انہوں نے فرمایا: تم نے ابن ام عبدکے گھر والوں کے متعلق غفلت کا گمان کیا؟ پھر دوبارہ تسبیحات میں مشغول ہو گئے حتیٰ کہ انہوں نے محسوس کیا کہ سورج نکل آیا ہوگا تو فرمایا: اے بچی! دیکھو تو! کیا سورج نکل آیا ہے؟ اس نے دیکھا، ابھی سورج نہیں نکلا تھا، وہ پھر تسبیح کی طرف متوجہ ہو گئے حتیٰ کہ پھر جب انہوں نے محسوس کیا کہ سورج طلوع ہو گیا ہے تو کہا: اے لڑکی! دیکھو کیا سورج طلوع ہو گیا ہے؟ اس نے دیکھا تو سورج طلوع ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: اللہ کی حمد جس نے ہمیں یہ دن لوٹا دیا۔ مہدی نے کہا: میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی کہا: اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں ہلاک نہیں کیا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں نے کل رات تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی، اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیزی سے، جس طرح شعر تیز پڑھے جاتے ہیں؟ ہم نے باہم ملا کر پڑھی جانے والی سورتوں کی سماعت کی ہے۔ اور مجھے وہ دو دو سورتیں یاد ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، مفصل میں سے اٹھارہ سورتیں اور دو سورتیں حمٰ والی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ ، يُقَالُ لَهُ : نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ " .
منصور نے (ابووائل) شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو بجیلہ میں سے ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں (تمام) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتا ہوں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیزی سے جیسے شعر تیزی سے پڑھے جاتے ہیں؟ مجھے وہ باہم ملتی جلتی سورتیں معلوم ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں دو دو کر کے پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّا الشِّعْرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ، قَالَ : فَذَكَرَ ، " عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ ، سُورَتَيْنِ ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ " .
عمرو بن مرہ سے روایت ہے۔ انہوں نے ابووائل سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آج رات (تمام) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھی ہیں تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس تیز رفتاری سے جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں؟ (پھر) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں وہ نظائر (ایک جیسی سورتیں) پہچانتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، انہوں نے مفصل سورتوں میں سے بیس سورتیں بتائیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ (ان سورتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سنن ابی داؤد، شہر رمضان، باب تخریب القرآن 1396)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔