مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قرآن پر عمل کرنے والے اور اس کے سکھانے والے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلهم ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ ، آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُنْفِقُهُ ، آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں (ابن شہاب) زہری نے سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "دو چیزوں (خوبیوں) کے سوا کسی اور چیز میں حسد (رشک) کی گنجائش نہیں: ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی، پھر وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اسے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْكِتَابَ فَقَامَ بِهِ ، آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِهِ ، آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو چیزوں کے علاوہ کسی چیز میں حسد (رشک) نہیں: ایک اس شخص سے متعلق جسے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عطا فرمائی اور اس نے دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا اور اس نے دن رات کے اوقات میں اسے صدقہ کیا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 816
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً ، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو باتوں کے سوا کسی چیز میں حسد (رشک) نہیں کیا جا سکتا: ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اسے اس پر مسلط کر دیا کہ وہ اس مال کو حق کی راہ میں بے دریغ لٹائے۔ دوسرا وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (دانائی) عطا کی اور وہ اس کے مطابق (اپنے اور دوسروں کے) معاملات طے کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 816
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 817
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ : مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي ؟ فَقَالَ : ابْنَ أَبْزَى ، قَالَ : وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى ؟ قَالَ : مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا ، قَالَ : فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى ، قَالَ : إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ " .
عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی عسفان کے مقام پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں مکہ کا گورنر مقرر کیا ہوا تھا، اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی، یعنی مکہ کے لوگوں پر اپنا نائب کس کو بنایا ہے؟ نافع نے جواب دیا: ابزیٰ کے بیٹے کو تو پوچھا، ابزیٰ کا بیٹا کون ہے؟ کہنے لگے ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا، تم نے ان پر ایک غلام کو اپنا جانشین بنا ڈالا؟تو نافع نے جواب دیا، اللہ کی کتاب پڑھنے والا ہے اور وہ فرائض کا علم رکھتا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ہاں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب مجید کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 817
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان (کے مقام) پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ آگے زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔