کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
حدیث نمبر: 772
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ، ثُمَّ مَضَى ، فَقُلْتُ : يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ بِهَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا ، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا ، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا ، تَسْبِيحٌ سَبَّحَ ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا ، قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِه " ، قَالَ : وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ .
عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ اور جریر سب نے اعمش سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے مستورد بن احنف سے، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا، میں نے (دل میں) کہا: آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے، میں نے کہا: آپ اسے (پوری) رکعت میں پڑھیں گے، آپ آگے پڑھتے گئے، میں نے سوچا، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ نے وہ پوری پڑھی، پھر آپ نے آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھا، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت) سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے، آپ کا رکوع (تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔ پھر آپ نے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا، پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر سجدہ کیا اور ”سبحان ربی الأعلى“ کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: (”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لك الحمد“ یعنی ربنا لك الحمد کا اضافہ ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 773
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ ، قَالَ : قِيلَ : وَمَا هَمَمْتَ بِهِ ؟ قَالَ : هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز شروع کی، آپﷺ نے بہت طویل نماز پڑھی حتی کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا تو ان سے پوچھا گیا، آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا، میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپﷺ کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 773
وحَدَّثَنَاه إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»