حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى ، أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ اضْطَجَعَ ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا ، وَفَوْقِي نُورًا ، وَتَحْتِي نُورًا ، وَأَمَامِي نُورًا ، وَخَلْفِي نُورًا ، وَعَظِّمْ لِي نُورًا " ، قَالَ كُرَيْبٌ : وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ ، فَذَكَرَ : عَصَبِي ، وَلَحْمِي ، وَدَمِي ، وَشَعْرِي ، وَبَشَرِي ، وَذَكَرَ : خَصْلَتَيْنِ .
سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت (کی جگہ) آئے، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر دو (طرح کے) وضو (بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو) کے درمیان کا وضو کیا اور (پانی) زیادہ (استعمال) نہیں کیا اور (وضو) اچھی طرح کیا، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ (کے حالات جاننے) کی خاطر جاگ رہا تھا، پھر میں نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب (کھڑا) کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ نے نماز پڑھی (سنت فجر ادا کیں) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھر دے اور میری دائیں طرف نور کر دے اور میری بائیں طرف نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) کریب نے بتایا کہ (ان کے علاوہ مزید) سات (چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن) کا تعلق جسم کے صندوق (پسلیوں اور ارد گرد کے حصے) سے ہے، میری ملاقات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انہوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا، انہوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری کھال (کو نور کر دے)، دو اور بھی چیزیں بتائیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ انھوں نے ایک رات ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں، تو میں سرہانے یعنی بستر) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کی اہلیہ اس کے طول (لمبائی) میں لیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہو گئی۔ یا اس سے کچھ قبل یا کچھ بعد، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدا ر ہو گئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے، پھر آپﷺ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کی تلاوت فرمائی، پھر آپﷺ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہتے ہیں: ”میں اٹھا اور میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یہی عمل کیا پھر جا کر آپﷺ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے کان کو پکڑ کر مروڑنے لگے۔ پھر آپﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت، پھر دورکعت پڑھیں۔ پھر وتر پڑھا، پھر آپﷺ لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آپﷺ کے پاس آیا تو آپﷺاٹھ کر دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لئے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ ، فَتَسَوَّكَ ، وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَلِيلًا ، ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ .
مصنف دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے۔ پھر آپﷺ نے پانی کے ایک مشکیزے کا رخ کیا، مسواک کی اور وضو کیا، وضو مکمل کیا لیکن پانی بہت کم بہایا، پھر مجھے حرکت دی اور میں سیدھا ہو گیا، یعنی میری نیند دور ہو گئی۔ باقی حدیث مذکورہ بالا کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، " فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " ، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، قَالَ عَمْرٌو : فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ .
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ (کے سانسوں) کی آواز آنے لگی، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آواز آتی تھی۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، آپ نے (از سر نو) وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انہوں نے کہا: کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَقُلْتُ لَهَا : إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي ، قَالَ : " فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی، میں نے ان سے عرض کی: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آپ مجھے بھی بیدار کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کخڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا (اور سو گئے) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آواز سن رہا تھا۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا ، قَالَ : وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " .
سفیان بن عمرو بن دینار سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اٹھے، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضو کیا (کریب نے) کہا: انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ پھر آ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا (اور گھما کر) اپنی دائیں جانب کر لیا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی۔ پھر لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ آواز سے سانس لینے لگے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور (نیا) وضو نہ کیا۔ سفیان نے کہا: یہ (نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَامَ فَبَالَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا ، وَأَمَامِي نُورًا ، وَخَلْفِي نُورًا ، وَفَوْقِي نُورًا ، وَتَحْتِي نُورًا ، وَاجْعَلْ لِي نُورًا ، أَوَ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا " .
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری، میں نے (وہاں رہ کر) مشاہدہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ کہا: آپ اٹھے، پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں۔ پھر سو گئے۔ آپ (کچھ دیر بعد) پھر اٹھے، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا، پھر دو وضوؤں کے درمیان کا خوبصورت وضو کیا (وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا)، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا۔ کہا: تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی، پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سو جاتے تو ہم آپ کے سونے کو آپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لیے نور بنا۔“ یا فرمایا: ”مجھے نور بنا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَلَقِيتُ كُرَيْبًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ، وَقَالَ : وَاجْعَلْنِي نُورًا ، وَلَمْ يَشُكَّ .
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، کہا: ہمیں سلمہ بن کہیل نے بکیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ سلمہ نے کہا: میں کریب کو ملا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ پھر انہوں نے غندر (محمد بن جعفر) کی حدیث (1794) کی طرح بیان کیا اور کہا: ”اور مجھے سراپا نور کر دے“ اور انہوں نے (کسی بات میں) شک کا اظہار نہ کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ ، وَقَالَ : أَعْظِمْ لِي نُورًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : وَاجْعَلْنِي نُورًا .
سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے ابورشدین (کریب) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کا ذکر نہیں ہے، ہاں، یہ کہا: پھر آپ مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، اور دو وضوؤں کے درمیان کا وضو کیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اور مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، پھر دوبارہ وضو کیا جو (صحیح معنی میں) وضو تھا اور کہا: ”میرا نور عظیم کر دے“ اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کر دے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا ، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَالَ : وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً ، قَالَ سَلَمَةُ : حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ ، فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا ، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا ، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا ، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " .
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان (عقیل) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان (سلمہ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری، انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی۔ پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی۔ (تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں) سلمہ نے کہا: کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے اندر نور کر دے اور میرے نور کو عظیم کر دے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا ، لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، قَالَ : فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ، ثُمَّ رَقَدَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ .
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی، پھر آپ سو گئے۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو کیا اور مسواک کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَتَسَوَّكَ ، وَتَوَضَّأَ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا ، الْقِيَامَ ، وَالرُّكُوعَ ، وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ ، يَسْتَاكُ ، وَيَتَوَضَّأُ ، وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا ، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا ، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا ، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا ، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا ، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا " .
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے پس (تہجد کے وفت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اور آپﷺ نے مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپﷺ یہ آیت مبارکہ پڑھ رہے تھے: ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد ورفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لئے اسباق ہیں۔‘‘ سورت ال عمران کے ختم تک یہ آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو ر کعتیں پڑھیں، ان قیام رکوع اور سجود بہت طویل کیا پھر بستر کی طرف واپس پلٹے اور سو گئے یہاں تک کہ آپﷺ کے سانس کی آواز سنائی دینے لگی، یعنی خراٹے لینے لگے پھر آپﷺ نے اس طرح تین دفعہ کیا، چھ رکعتیں پڑھیں، ہر دفعہ آپﷺ مسواک کرتے، وضو فرماتےاور ان آیات کو تلاوت فرماتے، پھر آپﷺ نے تین وتر پڑھے، پھر مؤذن نے اذان دی تو آپﷺ نماز کے لئے نکلے اور آپﷺ یہ دعا کر رہے تھے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور فرما اور میری زبان میں نور فرما اور میری سمع و بصر میں نور پیدا فرما، اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نورکر دے، اے اللہ! مجھے نور عنائیت فرما دے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ ، فَقَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ " ، قُلْتُ : أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفلی نماز پڑھنے کے لئے اٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا، پھر اٹھ کر نماز شروع کر دی، جب میں نے آپﷺ کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضو کیا، پھر میں آپﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپﷺ نے اپنی پشت کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا، اسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب پھیر لیا۔ عطا ء نے کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟ انھوں نے کہا: ہاں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، " فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ " .
قیس بن سعد، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ کے ساتھ گزاری، آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر لیا (اس حدیث میں مزید یہ تفصیل سامنے آئی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے بھیجا تھا)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 763
وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ .
مصنف نے ایک دوسرے استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 763
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مثنیٰ، اور ابن بشار نے غندر، شعبہ اور ابوجمرہ کی سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے (یہی رات کی رکعتوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہے جس میں دو خفیف رکعتیں شامل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول گیارہ کا تھا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 764
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 765
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، طَوِيلَتَيْنِ ، طَوِيلَتَيْنِ ، طَوِيلَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (دل میں) کہا: میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا (گہری نظر سے) مشاہدہ کروں گا، تو (میں نے دیکھا کہ) آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر دو انتہائی لمبی رکعتیں، بہت ہی زیادہ لمبی رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو (ان طویل ترین) رکعتوں سے ہلکی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے ہلکی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے کم تر تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلی والی رکعتوں سے کم تھیں، پھر وتر پڑھا تو یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 765
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 766
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ ، فَقَالَ : أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَعْتُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، قَالَ : " فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم سواری کو پلانے کے لیے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا، پھر آپ ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 766
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا ، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا قَامَ مِنِ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ ، افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لیے اٹھتے، اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 767
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 768
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو (نماز کے لیے) اٹھے تو وہ اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ،
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آدھی رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! تو ہی حمد کاحقدار ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تو ہی شکر کا مستحق ہے تو آسمانوں اور زمین نگران ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین کا (اور جو کچھ ان میں ہے) ان کا مالک ہے، اور تو برحق ہے، اور تیرا وعدہ شدنی ہے اور تیرا قول اٹل ہے اور تیری ملاقات قطعی ہے اور جنت موجود ہے اور آگ موجود ہے، اور قیامت واقع ہو کر رہے گی، اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ ہی پر میں ایمان لایا، اور تجھ ہی پر میں نے اعتماد اور بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیر ی ہی توفیق سے تیرے منکروں سے جھگڑا کیا، اور تیرے ہی حضور میں فیصلہ لایا، یعنی تجھے ہی حکم تسلیم کیا، تو میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ بخش دے تو ہی میرا الہ ہے تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وابن أبي عمر ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ ، لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : مَكَانَ قَيَّامُ ، قَيِّمُ ، وَقَالَ : وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ ، وَيُخَالِفُ مَالِكًا ، وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ .
یہی روایات امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی طرح ابن جریج اور ابن عیینہ نے بھی بیان کی ہیں، ابن جریج اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کے الفاظ یکساں ہیں،صرف دو لفظوں میں اختلاف ہے، ابن جریج نے قَيَّامُ کی بجائے قَيِّمُ کہا اور وَاَسْرَرْتُ کی جگہ وَمَا اَسْرَرْتُ کہا۔ ابن عیينه کی روایت میں کچھ اضافہ ہے،اور بعض کلمات میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ابن جریج کی مخالفت ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 769
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ .
قیس بن سعد نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ (اس حدیث کے راوی عمران القصیر کے) الفاظ ان (امام مالک، سفیان، ابن جریج) کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 769
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وأبو معن الرقاشي ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو کس چیز کے ساتھ نماز کا آغاز کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز (اس دعا سے) کرتے: ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي ، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، أَنَا بِكَ ، وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، وَإِذَا رَكَعَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعَظْمِي ، وَعَصَبِي ، وَإِذَا رَفَعَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ،
یوسف ماجثون نے کہا: مجھ سے میرے والد (یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو فرماتے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ہر طرف سے یکسو ہو کر، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں، میری نماز اور میری ہر (بدنی و مالی) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کائنات کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے، اس لیے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف کوئی گزر نہیں ہے، میں تیرے ہی سہارے ہوں، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا، رفعت والا اور بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں۔“ اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے: ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں۔“ اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، برکت والا ہے اللہ جو بہترین خالق ہے۔“ پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمہیں علم ہے (اطاعت اور خیر میں) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 771
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 771
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : وَجَّهْتُ وَجْهِي ، وَقَالَ : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالَ : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَقَالَ : وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ، وَقَالَ : وَإِذَا سَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ .
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون (یعقوب بن ابی سلمہ) سے اور انہوں نے (عبدالرحمان) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دعا پڑھتے: ”وجہت وجهي“ اس میں (کے بجائے) ”أنا من المسلمين“ اور ”میں اطاعت و فرمانبرداری میں اولین (مقام پر فائز) ہوں“ کے الفاظ ہیں اور کہا: جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ کہتے اور صورہ (اس کی صورت گری کی) کے بعد ”فأحسن صورها“ (اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی) کے الفاظ کہے اور کہا: جب سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ ”اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا۔“ حدیث کے آخر تک اور انہوں نے ”تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان“ کے الفاظ نہیں کہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 771
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»