کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: رات کی نماز کے احکام اور جس سے سونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے رہ جائے۔
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا ، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ، وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ، فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِكَ ، رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ، ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا ، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِقَارِبِهَا ، لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا ، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا ، قَالَ : فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ ، فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا ، فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَحَكِيمٌ ، فَعَرَفَتْهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَتْ : مَنْ هِشَامٌ ؟ قَالَ : ابْنُ عَامِرٍ ، فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ ، وَقَالَتْ : خَيْرًا ، قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَمُوتَ ، ثُمَّ بَدَا لِي ، فَقُلْتُ : أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ سورة المزمل آية 1 ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ ، سِوَاكَهُ ، وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَتَسَوَّكُ ، وَيَتَوَضَّأُ ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ ، لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ ، وَلَا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الأَوَّلِ ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا .
سعد بن ہشام بن عامر نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ (جہاد) کرنے کا ارادہ کیا تو مدینہ منورہ آ گئے اور وہاں ا پنی ایک جائیداد فروخت کرنی چاہی تاکہ اس سے ہتھیار اور گھوڑے مہیا کریں اور موت آنے تک رومیوں کے خلاف جہاد کریں، چنانچہ جب مدینہ آئے تو اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں سے ملے، انھوں نے اس کو اس ارادے سے روکا اور ان کو بتایا کہ چھ افراد کے ایک گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایسا کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا تھا: ”کیا میرے طرز عمل میں تمھارے لئے نمونہ نہیں ہے؟‘‘ چنانچہ جب ان لوگوں نے انھیں یہ بات بتائی تو انھوں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا جبکہ وہ اسے طلاق دے چکے تھے، اور اس سے رجوع کے لئے گواہ بنائے۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر (بشمول قیام اللیل) کے بارے میں سوال کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کیا میں تمھیں اس ہستی سے آگاہ نہ کروں، جو روئے زمین کے تمام لوگوں کی نسبت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زیادہ جاننے والی ہے؟ سعد نے کہا: وہ کون ہیں؟ انھوں نےکہا: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس جاؤ اور پوچھو، پھر (دوبارہ) میرے پاس آنا اور ان کا جواب مجھے بھی آ کر بتانا، (سعدنے کہا:) میں ان کی طرف چل پڑا اور (پہلے) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انھیں اپنے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چلنے کو کہا تو انھوں نے کہا: میں ان کے پاس نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انھیں (آپس میں لڑنے والی) ان دو جماعتوں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔ تو وہ ان دونوں کے بارے میں اسی طریقے پر چلتے رہنے کے سوا اور کچھ نہ مانیں۔ (سعد نے) کہا: تو میں نے انھیں قسم دی تو وہ آ گئے، پس ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف چل پڑے، اور ان سے حاضری کی اجازت طلب کی، انھوں نے اجازت مرحمت فرما دی اور ہم ان کے گھر (دروازے) میں داخل ہوئے، انھوں نے کہا: کیا حکیم ہو؟ انہوں نے اسے پہچان لیا، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو انھوں نے کہا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: سعد بن ہشام۔ انھوں نے پوچھا: ہشام کون؟ اس نے کہا: عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بن امیہ انصاری) کے بیٹے۔ تو انہوں نے ان کے لئے رحمت کی دعا کی اور کلمات خیر کہے۔ قتادہ نے کہا: وہ (عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق مبارک کے بارے میں بتایئے۔ انھوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! انھوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا (آپﷺ کی سیرت وکردار قرآن کا عملی نمونہ تھی) کہا: اس پر میں نے یہ چاہا کہ اٹھ (کر چلا) جاؤں اور موت تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں، پھر اچانک ذہن میں آیا تو میں نے کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (رات کے) قیام کے بارے میں بتائیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ نہیں پڑ ھتے؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں! انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے ساتھیوں نے سال بھر قیام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آخری آیات بارہ ماہ تک آسمان پر روکے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف کا حکم نازل فرمایا تو رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل (میں تبدیل) ہو گیا۔ سعد نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اُمُّ الْمُؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتایئے۔ تو انھوں نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپﷺ کی مسواک اور آپﷺ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھتے تھے اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا، آپﷺ کو بیدار کر دیتا تو آپﷺ مسواک کرتے، وضو کرتے اور پھر نو رکعتیں پڑھتے، ان میں آپﷺ آٹھویں کے علاوہ کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، پھر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر کھڑے ہو کرنویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے پھر سلام كے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بڑھی اور(جسم پر کسی حد تک) گوشت چڑھ گیا (جسم مبارک بھاری ہو گیا) تو آپﷺ سات وتر پڑھنے لگ گئے اور دو رکعتوں میں وہی کرتے جو پہلے کرتے تھے (بیٹھ کر پڑھتے) تو بیٹا! یہ نو رکعتیں ہو گئیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپﷺ پسند کرتے کہ اس پرقائم رہیں اور جب نیند یا بیماری غالب آ جاتی اور رات کا قیام نہ کر سکتے تو آپﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ میں نہیں جانتی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ ہی آپﷺ نے کسی رات صبح تک نماز پڑھی اور نہ رمضان کے سوا کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے۔ (سعد نے) کہا: پھر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف گیا اور انھیں ان (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی حدیث سنائی تو انھوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا، اگر میں ان کے قریب ہوتا یا ان کے گھر جاتا ہوتا تو ان کے پاس جاتا تاکہ وہ مجھے یہ حدیث رو برو سناتیں۔ سعد کہتے ہیں، میں نے کہا، اگر مجھے علم ہوتا کہ آپﷺ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں آپﷺ کو ان کی حدیث نہ سناتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 746
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
معاذ بن ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کریں۔ آگے (اسی سابقہ حدیث کی) طرح بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 746
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : قَالَتْ : مَنْ هِشَامٌ ؟ قُلْتُ : ابْنُ عَامِرٍ ، قَالَتْ : نِعْمَ ، الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ .
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے حدیث سنائی، کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا۔ (اس کے بعد) انہوں نے اپنے پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: کون ہشام؟ میں نے عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: عامر بہت اچھے انسان تھے، احد کے دن شہید ہوئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 746
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ قَالَتْ : مَنْ هِشَامٌ ؟ قَالَ : ابْنُ عَامِرٍ ، قَالَتْ : نِعْمَ ، الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ : أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا ، مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا .
معمر نے قتادہ سے اور انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے روایت کی کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: کون ہشام؟ عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) تھے، شہید ہوئے، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کے بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز جب رہ جاتی، بیماری یا کسی اور وجہ سے تو دن کو 12 رکعات پڑھتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 746
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " ، قَالَتْ : وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا ، إِلَّا رَمَضَانَ .
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقرار رکھتے اور جب آپ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہو جاتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کبھی) نہیں دیکھا کہ آپ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ (کبھی) آپ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 746
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح ، وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أخبراه ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے، کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حزب (قرآن کا 1/7 حصہ جو عموماً ایک رات میں تہجد کے دوران پڑھا جاتا تھا) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائے گا، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 747
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»