کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز چاشت کے استحباب کا بیان کم از کم اس کی دورکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں اور درمیانی چار یا چھ ہیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے کی ترغیبیں۔
حدیث نمبر: 717
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ " هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَتْ : لَا ، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِه " .
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا، کیا نبی اکرم ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا، نہیں، اِلاَّ یہ کہ سفر سے واپس آئیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 717
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 717
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَتْ : لَا ، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ " .
کیمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 717
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر میں قیام کے دوران میں) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے، لیکن اس ڈر سے کہ لوگ (بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گے اور (ان کی دلچسپی کی بناء پر) وہ کام ان پر فرض کر دیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 718
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى ؟ قَالَتْ : أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ " .
عبدالوارث نے کہا: ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے معاذہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : يَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ .
مصنف نے یہی روایت دوسری سند سے بیان کی ہے، اس میں مَاشَاءَ کی بجائے مَاشَاءَ اللّٰھُ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 719
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ حَدَّثَتْهُمْ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
سعید نے کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان (حدیث سننے والوں) کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ (بھی) پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 719
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
معاذ بن ہشام نے روایت کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 336
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ، إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ ، مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ ، وَالسُّجُودَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ : قَطُّ .
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کر رہے تھے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں قط (کبھی) کا لفظ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 336
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ ، غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ ، أَمْ رُكُوعُهُ ، أَمْ سُجُودُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ " ، قَالَتْ : فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ ، وَلَا بَعْدُ ، قَالَ الْمُرَادِيُّ : عَنْ يُونُسَ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَخْبَرَنِي .
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں میں نے پوچھا اور میری یہ آرزو اور خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی ہے تو مجھے ام ہانی کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا۔ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ دن بلند ہونے کے بعد آئے تو کپڑا لا کر آپﷺ کو پردہ مہیا کیا گیا تو آپﷺ نے غسل فرمایا۔ پھر آپﷺ اٹھے اور آٹھ رکعات پڑھیں، میں نہیں جانتی کہ ان میں آپﷺ کا قیام طویل تھا یا آپﷺ رکوع یا سجدہ یہ سب ارکان قریب قریب تھے اور ام ہانی نے بتایا میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ راوی نے اپنی روایت میں اَخْبَرَنِیْ یونس کی جگہ عَنْ یُوْنُسُ کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ ، قَالَتْ : فَسَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قُلْتُ : أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ ، " قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَلِكَ ضُحًى .
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی طرف گئی تو میں نے آپﷺ کو نہاتے ہوئے پایا اور آپﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپﷺ کو کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھی۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید‘‘ تو جب آپﷺ نہانے سے فارغ ہوئے تو اٹھے اور آٹھ رکعات نماز پڑھی۔ آپﷺ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے جب آپﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے جسے میں پناہ دے چکی ہوں جو فلاں ہے اور ہبیرة کا بیٹا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی جس کو تو نے پناہ دی ہم نے بھی پناہ دی‘‘ ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا یہ چاشت کا وقت تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 336
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ ، ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ " .
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر میں ایک کپڑے میں، جس کے دونوں جانب آپس میں مخالف جانب ڈالے گئے تھے آٹھ رکعات نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى " .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ پس ہر ایک تسبیح (ایک دفعہ سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ہر ایک تحمید (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تہلیل (لا إله إلا اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تکبیر (اللہ اکبر کہنا) بھی صدقہ ہے۔ (کسی کو) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور (کسی کو) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 720
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ، بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے تین چیزوں کی تلقین فرمائی، ہر ماہ تین روزے رکھوں، چاشت کی دو رکعت پڑھوں اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 721
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ قَالَا : سَمِعْنَا أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
عباس جریری اور ابوشمر ضبعی دونوں نے کہا: ہم نے ابوعثمان نہدی سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 721
وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي ، أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِثَلَاثٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ایک اور سند میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 722
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ، لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ ، بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَصَلَاةِ الضُّحَى ، وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ " .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے، جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا، ہر ماہ تین دنوں کے روزے، چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صلاة المسافرين وقصرها / حدیث: 722
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»