کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 710
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " .
شعبہ نے ورقاء سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔“
حدیث نمبر: 710
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 710
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ " .
روح نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 710
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 710
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، قَالَ حَمَّادٌ : ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا ، فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ حماد نے کہا: پھر میں (براہ راست) عمرو (بن دینار) سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول روایت کیا)
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي ، وَقَدْ أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، أَحَطْنَا نَقُولُ : مَاذَا ؟ قَالَ : لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ لِي : " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا " ، قَالَ : الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ .
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی، ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا۔“ قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ (مولف کتاب) نے کہا: قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (والد سے روایت کی) کہنا درست نہیں۔ (عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں)
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلًا يُصَلِّي ، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ ، فَقَالَ : أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟ " .
ابوعوانہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: صبح کی نماز کی اقامت (شروع) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“
حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح ، وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح ، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا فُلَانُ ، بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ ، أَبِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ ، أَمْ بِصَلَاتِكَ مَعَنَا ؟ " .
حضرت عبداللہ بن سرجس (المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟ اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟“