حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ ، حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ " .
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں سواری پر) اپنی نفل نماز پڑھتے تھے آپ کی اونٹنی جس طرف بھی آپ کو لے کر رخ کر لیتی۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
ابوخالد احمر نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ چاہے آپ کو لے کر جس طرف بھی رخ کر لیتی۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ ، قَالَ : وَفِيهِ نَزَلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .
یحییٰ بن سعید نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے ہوتے، اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا۔ کہا: اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ» (سو جس طرف تم رخ کرو، وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔)
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ ، وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ .
امام مسلم اپنے مختلف اساتذہ سے عبدالملک کی سند سے یہی روایت نقل کرتے ہیں اور ان میں ابن مبارک اور ابن ابی زائد کی روایت میں ہے کہ پھر ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پڑھا: ﴿فَاَ یْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْهُ اللّٰہُ﴾ اور کہا یہ اسی مسئلہ کے بارے میں اتری ہے۔
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
عمرو بن یحییٰ مازنی نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا جبکہ آپ نے خیبر کا رخ کیا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ ، نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : خَشِيتُ الْفَجْرَ ، فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُسْوَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ " .
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا۔ پھر جب مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوا میں نے سواری سے اتر کر وتر پڑھے پھر میں ان سے جا ملا۔ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے پوچھا، تم کہاں رہے تھے گئے تھے؟ تو میں نے ان سے کہا، مجھے فجر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ اس لیے میں نے اتر کر وتر پڑھے تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا۔ کیا تیرے لیے رسول اللہ ﷺ کا عملی نمونہ نہیں ہے؟ تو میں نے کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم۔ انہوں نے کہا، بلاشبہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ .
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ آپ کو لے کر جدھر کا بھی رخ کر لیتی۔ عبداللہ بن دینار نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر اپنی سواری پر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 700
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ .
سالم بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھتے جدھر بھی آپ کا رخ ہو جاتا اور اسی پر وتر بھی پڑھتے، البتہ آپ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 701
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ ، عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ " .
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ سفر میں رات کے وقت سواری پر نفل پڑھتے تھے جدھر کا بھی وہ رخ کر لیتی تھی۔
حدیث نمبر: 702
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حِينَ قَدِمَ الشَّامَ ، فَتَلَقَّيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ ، " فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ " ، وَأَوْمَأَ هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، قَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَفْعَلُهُ ، لَمْ أَفْعَلْهُ .
ہمام نے کہا: ہمیں انس بن سیرین نے حدیث بیان کی کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، ہم عین التمر کے مقام پر جا کر ان سے ملے تو میں نے انہیں دیکھا، وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا رخ اس طرف تھا۔ ہمام نے قبلے کی بائیں طرف اشارہ کیا۔ تو میں (انس بن سیرین) نے ان سے کہا: میں نے آپ کو قبلے کی بائیں طرف نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں (کبھی) ایسا نہ کرتا۔