کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، مِنَ الْقِرَاءَةِ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، ثُمَّ بَلَغَنَا ، أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور (رکوع میں جانے کے لیے) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد «سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد» (اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! اور حمد تیرے ہی لیے ہے) کہتے، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنہیں (کافروں نے) کمزور پایا، نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف رضی اللہ عنہ کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے۔ اے اللہ! الحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، لعنت نازل کر۔“ پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» (آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں، (اللہ تعالیٰ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے، چاہے ان کو عذاب دے کہ وہ یقیناً ظلم کرنے والے ہیں) تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی۔
حدیث نمبر: 675
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
امام مسلم یہی روایت دوسری سند سے بیان کرتے ہیں لیکن اس میں الھم العن لحیان و رعلا سے آخر تک کا حصہ بیان نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا ، إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ ، فَقُلْتُ : أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ ، قَالَ : فَقِيلَ : وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا .
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت (عاجزی سے دعا) کی، جب آپ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ لیتے (تو) اپنی قنوت میں یہ (الفاظ) کہتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! کمزور سمجھے جانے والے (دوسرے) مومنوں کو نجات عطا کر، اے اللہ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر، یوسف علیہ السلام کے (زمانے کے) قحط کے مانند کر دے۔“ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی، میں نے (ساتھیوں سے) کہا: میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی ہے۔ کہا: (جواب میں) مجھ سے کہا گیا، تم انہیں دیکھتے نہیں، (جن کے لیے دعا ہوئی تھی) وہ سب آچکے ہیں۔
حدیث نمبر: 675
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ، إِذْ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ : اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلَى قَوْلِهِ : كَسِنِي يُوسُفَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے فرمایا: «سمع اللہ لمن حمدہ» تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے (دعا مانگتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما۔“ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ (اوزاعی کے بجائے) شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، " يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ ، وَالْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے قریب قریب نماز پڑھاؤں گا۔ حضرت ابو ہریرہ ظہر، عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت کرتے تھے، مومنوں کے حق میں دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، ثَلَاثِينَ صَبَاحًا ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَلِحْيَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : " أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ ، قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ ، حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا ، أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا ، فَرَضِيَ عَنَّا ، وَرَضِينَا عَنْهُ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تیس دن ان لوگوں کے خلاف دعا کی، جنہوں نے بئر معونہ کے لوگوں کو قتل (شہید) کر دیا تھا، آپﷺ رعل، ذکوان، لحیان اور عصیہ کے لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی، کے خلاف دعا کرتے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہونے والے لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتاری: ”ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے، وہ ہم سے خوش ہوا اور ہم اس سے راضی ہیں۔‘‘ ہم نے اس آیت کی تلاوت کی، بعد میں یہ آیت منسوخ ہو گئی۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ " هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " .
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کبھی) صبح کی نماز میں قنوت کی تھی؟ کہا: ہاں، رکوع سے تھوڑی دیر بعد۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وأبو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَيَقُولُ : عُصَيَّةُ ، عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کی ہے۔ رعل اور ذکوان کے خلاف دعا کی اور فرمایا: ”عصیہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز میں رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت کی، بنو عصیہ کے خلاف دعا کی۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : قَبْلَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا ، يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ " .
عاصم بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قنوت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، رکوع سے پہلے ہے تو میں نے کہا، کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قنوت رکوع کے بعد کی ہے؟ تو انہوں نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے (رکوع کے بعد) ایک مہینہ قنوت کیا، ان لوگوں کے خلاف دعا کی، جنہوں نے آپ ﷺ کے کچھ ساتھیوں کو جنہیں قراء کہا جاتا تھا، قتل کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ " .
سفیان نے عاصم سے روایت کی، کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر (ساتھیوں) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے، انہیں قراء کہا جاتا تھا، آپ ایک مہینے تک ان کے قاتلوں کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
یہ روایت امام صاحب دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں جس میں وہ ایک دوسرے پر کچھ اضافہ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
شعبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت کی، آپ رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔
حدیث نمبر: 677
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ .
موسیٰ بن انس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَنَتَ شَهْرًا ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ " .
ہشام نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک عرب کے قبائل میں سے کچھ قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے ہوئے قنوت کی، پھر چھوڑ دی۔
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ ، وَالْمَغْرِبِ " .
شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا: ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور مغرب (کی نمازوں) میں قنوت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 678
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ ، وَالْمَغْرِبِ " .
سفیان نے عمرہ بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور مغرب (کی نمازوں) میں قنوت کی۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
عمران بن ابی انس نے حنظلہ بن علی سے اور انہوں نے خفاف بن ایما غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں (دعا کرتے ہوئے) کہا: ”اے اللہ! بنو لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا فرمائے۔“
حدیث نمبر: 679
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، وَالْعَنْ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا " ، قَالَ خُفَافٌ : فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ ،
خفاف بن ایماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا۔ پھر اس سے اپنا سر اٹھایا اور کہا: ”غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اسلم کو محفوظ رکھے۔ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اے اللہ! بنو لحیان پر لعنت بھیج اور رعل اور ذکوان پر لعنت نازل کر۔‘‘ پھر آپﷺ نے سجدہ کیا۔ خفاف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس بنا پر کافروں پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الأَسْقَعِ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ ، بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ .
امام صاحب ایک دوسری سند سے خفاف بن ایماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں خفاف کا یہ قول نہیں بیان کیا ”کہ اس وجہ سے کافروں پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔‘‘