حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ ، أَقْرَؤُهُمْ " .
حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تین نمازی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں امامت کا حقدار وہ ہے جو قرآن مجید کی خوب تلاوت کرتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 672
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح ، وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شعبہ، سعید بن ابی عروبہ اور معاذ (بن ہشام) نے اپنے والد کے واسطے سے، سب نے قتادہ سے اپنے اپنے شاگردوں کی اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 672
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ . ح ، وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ جَمِيعًا ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
امام مسلم نے اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 673
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ ، أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ " ، قَالَ الأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ : مَكَانَ سِلْمًا ، سِنًّا ،
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھنے والا ہو اور اگر اس میں یکساں ہوں تو ان میں جو سب سے زیادہ سنت کا علم رکھتا ہو، پس اگر سنت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ امامت کروائے سب سے پہلے مسلمان ہوا ہو اور کوئی آدمی دوسرے آدمی کے اقتدار کی جگہ میں امامت نہ کرائے اور نہ ہی اس کے گھر میں، اس کی اجازت کے بغیر اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے۔‘‘ اشج نے اپنی روایت میں سِنًّا کہا یعنی ”عمر میں زیادہ ہو۔‘‘
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام مسلم نے اپنے بہت سے دوسرے اساتذہ سے بھی مذکورہ بالا روایت کو بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 673
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ ، أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ ، وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ أَوْ بِإِذْنِهِ " .
شعبہ نے اسماعیل بن رجاء سے روایت کی، کہا: میں نے اوس بن ضمعج سے سنا، کہتے تھے: میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کہا: ”قوم کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا اور پڑھنے میں دوسروں سے زیادہ قدیم ہو، اگر ان سب کا پڑھنا ایک سا ہو تو وہ امامت کرے جو ہجرت میں قدیم تر ہو، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو وہ امامت کرے جو ان سب سے عمر میں بڑا ہو اور تم کسی شخص کے گھر اور اس کے دائرہ اختیار میں اس کے امام نہ بنو اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر بیٹھو، ہاں اس صورت میں کہ وہ تمہیں (اس بات کی) اجازت دے۔“ یا (فرمایا:) ”اس کی اجازت سے۔“
حدیث نمبر: 674
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَحِيمًا ، رَقِيقًا ، فَظَنَّ أَنَّا ، قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا ، فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ ، وَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ہم عمر نوجوان، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم آپ ﷺ کے پاس بیس دن ٹھہرے، رسول اللہ ﷺ بہت مہربان اور نرم دل تھے تو آپﷺ نے خیال کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کو چاہنے لگے ہیں، یعنی ہم گھر جانا چاہتے ہیں تو آپﷺ نے ہم سے پوچھا، ہم کن گھر والوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ تو ہم نے آپﷺ کو بتا دیا، آپﷺ نے فرمایا: اپنے خاندان کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں میں ٹھہرو، انہیں تعلیم دو اور انہیں حکم دو جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے۔‘‘
حدیث نمبر: 674
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 674
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .
حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم لوگ تقریباً ہم عمر نوجوان تھے، پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 674
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ لَنَا : " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَأَذِّنَا ، ثُمَّ أَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " .
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور میرا ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہم نے آپ کے ہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”جب نماز (کا وقت) آئے تو اذان کہو، پھر اقامت کہو اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کر لے۔“
حدیث نمبر: 674
وحَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، قَالَ الْحَذَّاءُ وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ .
حفص بن غیاث نے خالد حذاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور (اپنی روایت میں) یہ اضافہ کیا کہ حذاء نے کہا: دونوں قراءت میں ایک جیسے تھے۔