کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: صبح کے بعد اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھنے اور مسجدوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ . ح ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَثِيرًا ، " كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ " .
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟ اس نے کہا، ہاں، بکثرت (بہت) آپﷺ جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے، سورج نکلنے تک اس جگہ تشریف رکھتے جب سورج نکل آتا تو پھر آپ اٹھتے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم باہمی گفتگو کرتے، جاہلیت کے دور کی باتیں شروع ہو جاتیں تو وہ ہستے بھی اور آپﷺ بھی مسکراتے۔
حدیث نمبر: 670
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا " .
سفیان اور زکریا دونوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر پڑھتے تھے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے حتی کہ سورج اچھی طرح نکل آتا۔
حدیث نمبر: 670
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَقُولَا : حَسَنًا .
امام مسلم نے مذکورہ بالا روایت دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے لیکن اس میں (حَسَنًا) اچھی طرح نکلنے کے الفاظ نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 671
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ فِي رِوَايَةِ هَارُونَ وَفِي حَدِيثِ الأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحَبُّ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ ، مَسَاجِدُهَا ، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ ، أَسْوَاقُهَا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک (انسانی) آبادیوں کا پسندیدہ ترین حصہ ان کی مسجدیں ہیں، اور اللہ کے ہاں (انسانی) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں۔“