کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: عمدہ وقت سے نماز کی تاخیر مکروہ ہے اور جب امام ایسا کریں تو لوگ کیا کریں۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ : " كَيْفَ أَنْتَ ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ : عَنْ وَقْتِهَا .
خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی اور ابوکامل جحدری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟“ میں نے عرض کی تو آپ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمہیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ خلف نے «عن وقتھا» (اس کے وقت سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا ، كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پس اگر تم نے (دوبارہ ان کے ساتھ) وقت پر نماز پڑھ لی تو تمہاری نماز نفل ہو جائے گی، وگرنہ (اگر وہ وقت پر نہ پڑھیں) تم نے اپنی نماز کو بچالیا۔‘‘
حدیث نمبر: 648
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي ، أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا ، كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً " .
شعبہ نے ابوعمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام (ہی حکمران) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو (وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو)، اور اگر (انہوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے) تو تمہاری یہ نماز نفل ہو گی۔“
حدیث نمبر: 648
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَضَرَبَ فَخِذِي ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : قَالَ : مَا تَأْمُرُ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلِّ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت کے بعد پڑھیں گے؟ تو انہوں نے پوچھا: آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھ لو۔ پھر اپنی ضرورت کے لیے چلے جاؤ، اگر تیری مسجد میں موجودگی میں تکبیر ہو جائے تو پڑھ لو۔‘‘
حدیث نمبر: 648
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ ، وَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، وَقَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ ، فَصَلِّ ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ ، فَلَا أُصَلِّي " .
حضرت ابو عالیہ براء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ابن زیاد نے نماز میں تأخیر کر دی اور میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لائے، میں نے انہیں کرسی پیش کی وہ اس پر بیٹھ گئے، میں نے انہیں ابن زیاد کی حرکت سے آگاہ کیا تو انہوں نے اپنا ہونٹ کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے، اس طرح میں نے ابو ذر رضی اللہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے۔ اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا: ”نماز وقت پر پڑھو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقعہ ملے یا ان کے پاس موجود ہوتے ہوئے نماز تمہیں پا لے تو پڑھ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اور یہ نہ کہو میں نے نماز پڑھ لی ہے۔ اس لیے میں نہیں پڑھتا۔‘‘
حدیث نمبر: 648
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ ؟ أَوَ قَالَ : كَيْفَ أَنْتَ ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی‘‘ یا آپﷺ نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر لیں گے، تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر نماز اگر کھڑی کر دی جائے تو ان کے ساتھ پڑھ لینا، کیونکہ اس میں نیکی میں اضافہ ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 648
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَضَرَبَ فَخِذِي ، وَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً " ، قَالَ : وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ .
مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔“ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔