حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلهم ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ ، كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ، لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ " .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتی تھیں، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور (اندھیرے کی وجہ سے) کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 645
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ، يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ ، وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ " .
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر پہچانی نہ جا سکتی تھیں۔
حدیث نمبر: 645
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ ، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ " ، وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ : مُتَلَفِّفَاتٍ .
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا: ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایسا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں، (اور) اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ انصاری کی روایت میں («متلفعات» کے بجائے) «متلففات» (چادروں میں لپٹی ہوئی) کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا ، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ كَانُوا ، أَوَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ " .
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی (بن ابی طالب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حجاج مدینہ منورہ آیا (اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا) تو ہم نے (نماز کے اوقات کے بارے میں) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کو (زوال کے فوراً بعد) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف (اور روشن) ہوتا تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب انہیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے۔ اور صبح (کی نماز) یہ لوگ یا کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 646
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ الْحَجَّاجُ ، يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ .
معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا (آگے غندر کی روایت کی طرح ہے۔)
حدیث نمبر: 647
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : كَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا ، قَالَ : يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ ، حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، قَالَ : وَالْمَغْرِبَ ، لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ ، فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ ، قَالَ : وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .
سیار بن سلامہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا، شعبہ نے پوچھا، کیا تو نے خود سنا؟ اس نے کہا: گویا کہ میں ابھی سن رہا ہوں، اس نے کہا، میں نے اپنے باپ کو ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے بتایا کہ آپﷺ عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں بعد میں میری ان سے پھر ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے (سیار نے) بتایا، آپﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ اور عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ (کی آبادی) کے آخر پر ایسے وقت میں پہنچ جاتا جبکہ سورج ابھی زندہ ہوتا تھا (یعنی اس میں روشنی اور حرارت باقی ہوتی تھی وہ زرد اور ٹھنڈا نہیں ہوا ہوتا تھا) اور انہوں نے کہا، میں نہیں جانتا۔ انہوں نے مغرب کے لیے کونسا وقت بتایا تھا۔ شعبہ کہتے ہیں میں بعد میں پھر سلامہ سے ملا اور اس سے پوچھا تو اس نے بتایا صبح کی ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیر کر اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھتا جو اس کا آشنا ہوتا تھا۔ تو اس کو پہچان لیتا اور آپﷺ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انہوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابوبرزہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں کچھ (یعنی) آدھی رات تک تاخیر کی پروا نہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ شعبہ نے کہا: پھر میں انہیں دوبارہ ملا تو انہوں نے کہا: یا تہائی رات تک۔
حدیث نمبر: 647
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ " .
حضرت ابو منہال سیار بن سلامہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونا اور بعد میں گفتگو کرنا، ناپسند کرتے تھے اور صبح کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے تھے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے کہ لوگ ایک دوسرے کے چہرے پہچان لیتے تھے۔