حدیث نمبر: 638
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ : مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ " ، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ .
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کسی رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز، جسے عتمہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے لیے آنے میں تاخیر کر دی، رسول اللہ ﷺ گھر سے نہ نکلے حتیٰ کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، (مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: ”اہل زمین سے تمہارے سوا اس نماز کا کوئی بھی منتظر نہیں ہے۔‘‘ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا، حرملہ نے اپنی روایات میں ابن شہاب سے یہ اضافہ بیان کیا: مجھے بتایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے روانہ تھا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے‘‘ یہ اس وقت فرمایا جب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز سے پکارا۔
حدیث نمبر: 638
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ .
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہری کا قول: «وذکر لی» (مجھے بتایا گیا) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كلاهما ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا جَمِيعًا : عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي " ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : لَوْلَا أَنَّ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي .
محمد بن بکر، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق، سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں۔ سب نے کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں (مغیرہ کو) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ باہر تشریف لے گئے، نماز پڑھائی اور فرمایا: ”اگر (مجھے) یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا (بہترین) وقت ہے۔“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: ”اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا۔“
حدیث نمبر: 639
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا : جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : " إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً ، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي ، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى " .
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے (بھی) بعد آپ تشریف لائے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں (کے معاملے) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات، جب آپ باہر آئے تو فرمایا: ”بلاشبہ تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا تمہارے سوا کسی اور دین کے پیروکار انتظار نہیں کر رہے، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انہیں اسی گھڑی میں (یہ) نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 639
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ ، يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ " .
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے نافع نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی بنا پر) اس (عشاء کی نماز) سے مشغول ہو گئے، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“
حدیث نمبر: 640
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا ، عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ ، مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " ، قَالَ أَنَسٌ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصِرِ .
حضرت ثابت رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی، یا آدھی رات گزرنے کو تھی پھر آپﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم نماز ہی میں تصور ہو گے جب تک نماز کے انتظار بیٹھے رہو گے۔‘‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا، گویا کہ ابھی میں آپﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی اٹھا کر اشارہ کیا کہ انگوٹھی اس میں تھی۔
حدیث نمبر: 640
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا انتظار کیا، حتیٰ کہ وقت آدھی رات کے قریب ہو گیا تو پھر آپﷺ نے آ کر نماز پڑھائی، پھر آپﷺ نے ہماری طرف توجہ فرمائی گویا کہ میں آپﷺ کے ہاتھ میں، آپﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 640
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ .
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا: ”پھر آپ نے ہماری طرف رخ فرمایا۔“
حدیث نمبر: 641
وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ ، نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى رِسْلِكُمْ : " أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا ، أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ، أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، أَوَ قَالَ : مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ، لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرے (وہ) ساتھی جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں (حبشہ سے واپس) آئے تھے، بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں (اتنے) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے، فرمایا: ”ذرا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت، تمہارے سوا، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔“ یا آپ نے فرمایا: ”اس وقت تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔“ ہمیں یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سا جملہ کہا تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے۔
حدیث نمبر: 642
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ ، الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَعْتَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ ، قَالَ : حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ ، وَاسْتَيْقَظُوا ، وَرَقَدُوا ، وَاسْتَيْقَظُوا ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا " ، كَذَلِكَ قَالَ : فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً ، كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ ، حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ، ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ ، وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يُقَصِّرُ ، وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ عَطَاءٌ : أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا ، وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً ، كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَتَئِذٍ ، فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ ، خِلْوًا ، أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ ، وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ ، فَصَلِّهَا وَسَطًا لَا مُعَجَّلَةً ، وَلَا مُؤَخَّرَةً .
حضرت ابن جریج رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا: آپ کے نزدیک عشاء کی نماز جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں، میرے لیے امامت یا انفرادی طور پر کس وقت پڑھنا محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا، میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز میں دیر کردی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے اور بیدار ہوئے، پھر سو گئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا، نماز پڑھایئے، عطاء نے بتایا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اس پر نبی اکرم ﷺ نکلے، گویا کہ میں ابھی آپﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپﷺ کے سر سے پانی گر رہا تھا اور آپﷺ نے اپنے سر کی ایک جانب، اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ میری امت مشقت میں مبتلا ہو گی تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اس وقت پڑھا کریں۔‘‘ ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطاء سے تحقیق کی کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھنے کی کیا کیفیت بتلائی تھی؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں تھوڑی سی کھولیں، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کے ایک جانب رکھے، پھر ان کو نیچے کیا، اس طرح ان کو سر پر پھیرا، حتیٰ کہ ان کے انگوٹھے نے کان کے چہرے کے قریب والے کنارے کو چھوا، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے پر پہنچا، آپ نے نہ تاخیر کی اور نہ کچھ جلد بازی سے کام لیا، اس طرح کیا، میں نے عطاء سے پوچھا، آپ کو اس رات نبی اکرم ﷺ کی کس قدر تاخیر بتائی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں، عطاء نے کہا مجھے یہی پسند ہے کہ میں امام ہوں یا اکیلا، نماز تاخیر سے پڑھوں، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اس رات پڑی تھی، اگر تمہارے لیے انفرادی طور پر یا لوگوں کے لیے جماعت کی صورت میں جبکہ تم امام ہو یہ دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیانے وقت میں پڑھو نہ جلدی کرو نہ تاخیر۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ " .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 643
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا ، وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلَاةَ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ : يُخَفِّفُ .
قتیبہ بن سعید اور ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے سماک سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری طرح (اوقات میں) پڑھتے تھے، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمہاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتے تھے۔ اور ابوکامل کی روایت میں («یخف فی الصلاۃ» کے بجائے) «یخفف» کے الفاظ ہیں۔ (مفہوم ایک ہی ہے۔)
حدیث نمبر: 644
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ ، وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ " .
زہیر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابولبید سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہاری نماز کے نام پر تمہارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں، خبردار! یہ عشاء ہے، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں (اور اندھیرے (عتمہ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتے ہیں۔)“
حدیث نمبر: 644
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ ، وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الإِبِلِ " .
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدو تم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں۔“