مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: عصر اول وقت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ : فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ (روشنی میں کمی کے بغیر) ہوتا تھا، عوالی کی طرف جانے والا (عصر پڑھ کر) چلتا اور عوالی (مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی مسافت پر تھیں۔ قتیبہ نے (اپنی حدیث میں) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 621
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً .
عمرو نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے (آگے) بالکل (اوپر کی) روایت کے مطابق ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 621
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر قباء جانے والا جاتا اور وہاں اس وقت پہنچتا جبکہ آفتاب ابھی بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 621
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے، پھر انسان، بنو عمرو بن عوف کے محلّہ کی طرف جاتا تو وہ انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 622
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ ، حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ ، وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ ، قَالَ : فَصَلُّوا الْعَصْرَ ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ ، فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا " ، لَا يَذْكُرُ : اللَّهَ فِيهَا ، إِلَّا قَلِيلًا .
علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے ان سے عرض کی: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو عصر پڑھ لو۔ ہم نے اٹھ کر (عصر کی) نماز پڑھ لی، جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ (جب وہ زرد پڑ کر) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس (نماز) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 622
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 623
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : " الْعَصْرُ ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ " .
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا، میں نے پوچھا: چچا جان! یہ کون سی نماز ہے جو آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: عصر کی ہے، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 623
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّحَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ ، وَانْطَلَقْنَا مَعَه ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِّعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " ، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ مرادی اور احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ عمرو نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حفص بن عبیداللہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جب آپ فارغ ہوئے، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا۔“ آپ نکل پڑے، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے، ہم نے دیکھا، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا، اسے ذبح کیا گیا، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے (اسے) کھا لیا۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اور عمرو بن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 624
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا ، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ " ،
ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابونجاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَلَمْ يَقُلْ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ .
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا، ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ نحر کرتے تھے۔ یہ نہیں کہا ”ہم نماز میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔