حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ ، قَدْ نَزَلَ ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَأَمَّنِي ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: بات یوں ہے کہ جبریل نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ تو عمر نے ان سے کہا: اے عروہ! جان لیں (سمجھ لیں) آپ کیا کہہ رہے ہیں! انہوں نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جبریل اترے اور انہوں نے (نماز میں) میری امامت کی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 610
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بِهَذَا أُمِرْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ : انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ .
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی، اس وقت وہ کوفہ میں تھے، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل اترے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر (جبریل نے) کہا: مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر نے عروہ سے کہا: عروہ! دیکھ لو، کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے خود (آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (ہر) نماز کا وقت متعین کیا تھا؟ تو عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے اسی طرح بیان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 611
قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَليِّ الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا ، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ " .
زہری سے امام مالک کی سابقہ سند ہی سے روایت ہے کہ عروہ نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (اس وقت) پڑھتے کہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی، (حجرے سے) دھوپ باہر نکلنے سے پہلے۔ (مغربی دیوار کا سایہ حجرے کے دروازے تک نہ پہنچا ہوتا۔)
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي ، لَمْ يَفِئْ الْفَيْءُ بَعْدُ " ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ میرے کمرہ میں چمک رہی ہوتی، ابھی تک اس جگہ سے سایہ نہ پھیلا ہوتا اور ابوبکر نےلَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ کی جگہ لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کہا (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)
حدیث نمبر: 611
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا ، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ فِي حُجْرَتِهَا " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ دھوپ ان کے حجرے میں ہوتی، (مشرق کی طرف پھیلتا) سایہ ان کے حجرے میں نہ پھیلا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي " .
ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ ان کے حجرے میں پڑ رہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ " .
معاذ بن ہشام نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم فجر کی نماز پڑھو تو سورج کا پہلا کنارہ نمودار ہونے تک اس کا وقت ہے، پھر جب تم ظہر پڑھو تو عصر ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عصر پڑھو تو سورج کے زرد ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم مغرب پڑھو تو شفق (سرخی) کے ختم ہونے تک اس کا وقت ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو آدھی رات ہونے تک اس کا وقت ہے۔“
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُقَالُ : الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغ : حَيٌّ مِنَ الأَزْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَقْتُ الظُّهْرِ ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ ، مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " .
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے حدیث سنائی۔ ابوایوب کا نام یحییٰ بن مالک ازدی ہے۔ ان کو مراغی بھی کہا جاتا ہے اور مراغ قبیلہ ازد کی ایک شاخ ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت تب تک ہے جب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو، اور عصر کا وقت ہے جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق غروب نہ ہو، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ح . قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ شُعْبَةُ : رَفَعَهُ مَرَّةً ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ .
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 612
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا): ہمیں قتادہ نے ابوایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو (جانے تک)، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا (رہتا ہے) اور عصر کا وقت (ہے) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغرب کا وقت (ہے) جب تک شفق غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک (ہے) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔“
حدیث نمبر: 612
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ ، فَقَالَ : " وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ " .
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا؟ تو آپﷺ نے فرمایا: فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج کا ابتدائی کنارہ نہ نکلے اور ظہر کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل جائے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک عصر کا وقت نہیں ہوتا اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ پڑ جائے اور اس کا پہلا کنارہ ڈوبنے لگے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج غروب ہو جائے اور سرخی غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : " لَا يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ " .
عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: علم جسم کی راحت سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنِ الأَزْرَقِ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ : " صَلِّ ، مَعَنَا هَذَيْنِ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا ، فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ، حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي ، أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ ، فَأَبْرَدَ بِهَا ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ .
سفیان نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ یہ دو دن نماز پڑھو۔“ جب سورج ڈھلا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی، اور اس وقت سورج بلند، روشن اور صاف تھا، پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی، پھر آپ نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کے لیے اقامت کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، پھر جب فجر طلوع ہوئی تو آپ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کے لیے اقامت کہی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے انہیں (بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے دن ٹھنڈا ہونے دیا، انہوں نے اسے ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا اور عصر کی نماز پڑھی جبکہ سورج بلند تھا (البتہ) پہلے کی نسبت زیادہ تاخیر کی اور مغرب کی نماز شفق (سرخی) کے غروب ہونے سے (کچھ ہی) پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھی اور فجر کی نماز پڑھی تو روشنی پھیلنے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھے۔“
حدیث نمبر: 613
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلَاةَ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ ، فَصَلَّى الصُّبْحَ ، حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ ، حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ ، فَأَبْرَدَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ ، وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ " ، شَكَّ حَرَمِيٌّ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ .
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پاب سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا؟ آپﷺ نے فرمایا: ”نمازوں میں ہمارے ساتھ حاضر ہو‘‘، آپﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، اس نے غلس (اندھیرا) میں اذان کہی، جب فجر طلوع ہوئی تو آپﷺ نے نماز پڑھائی، جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل گیا تو اسے ظہر کے بارے میں حکم دیا، سورج ابھی بلند ہی تھا کہ اسے عصر کے بارے میں حکم دیا، پھر جب سورج غروب ہو گیا تو اسے مغرب کے بارے میں حکم دیا، پھر جب شفق غروب ہو گیا تو اسے عشاء کے بارے میں حکم دیا، پھر اگلے دن حکم دیا تو اس نے صبح کو روشن کیا، پھر اسے ظہر کے بارے میں حکم دیا، اس نے اس کو ٹھنڈا کیا، پھر اسے عصر کے بارے میں حکم دیا جبکہ سورج ابھی سفید اور صاف تھا اس میں زردی کی آمیزش نہیں ہوئی تھی (دھوپ ابھی زرد نہیں ہوئی تھی) پھر اسے شفق کے غروب سے پہلے مغرب کے بارے میں حکم دیا، پھر اسے تہائی رات کے گزرنے یا قدرے کم وقت پر عشاء کے بارے میں حکم دیا (شک حرمی کو ہے) جب صبح ہوئی تو آپﷺ نے پوچھا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا، نمازوں کا وقت اس کے درمیان ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ ، يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، قَالَ : " فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْقَائِلُ ، يَقُولُ : قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ ، حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ ، فَقَالَ : الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ " .
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بدر بن عثمان نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوبکر بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ کے پاس ایک سائل نمازوں کے اوقات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے اسے (زبانی) کچھ جواب نہ دیا۔ کہا: جب فجر کی پھوٹ پھوٹی تو آپ نے فجر کی نماز پڑھائی جبکہ لوگ (اندھیرے کی وجہ سے) ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے، پھر جب سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں (بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا اور انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جبکہ سورج ابھی بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی، پھر جب سورج نیچے چلا گیا تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق غائب ہوئی تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر اگلے دن فجر میں تاخیر کی، یہاں تک کہ اس وقت سے فارغ ہوئے جب کہنے والا کہے: سورج نکل آیا ہے یا نکلنے کو ہے، پھر ظہر کو مؤخر کیا حتی کہ گزشتہ کل کی عصر کے قریب کا وقت ہو گیا، پھر عصر کو مؤخر کیا کہ جب سلام پھیرا تو کہنے والا کہے: آفتاب میں سرخی آگئی ہے، پھر مغرب کو مؤخر کیا حتی کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہوئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا حتی کہ رات کی پہلی تہائی ہو گئی، پھر صبح ہوئی تو آپ نے سائل کو بلوایا اور فرمایا: ”(نماز کا) وقت ان دونوں (وقتوں) کے درمیان ہے۔“
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي .
وکیع نے بدر بن عثمان سے روایت کی، انہوں نے ابوبکر بن ابی موسیٰ سے سن کر یہ حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا (آگے ابن نمیر کی روایت کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: دوسرے دن آپ نے مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔)