کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ " ، قَالَ الْوَلِيدُ : فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ ، كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ .
ولید نے اوزاعی سے، انہوں نے ابوعمار (ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے) سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!“ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انہوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 591
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَلَّمَ ، لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ ، مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) پڑھنے کی مقدار تک بیٹھتے تھے اور ابن نمیر کی روایت: (يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) یعنی یا کے اضافہ کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 592
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 592
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، جس میں ہے اور کہا: (یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام) اے عظمت و احسان کے مالک۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 592
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 592
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا ، عَنِ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر وہ (شعبہ) «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 592
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ ، وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
منصور نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ان کے مطالبے پر) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 593
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا : قَالَ : فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ .
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 593
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، إِلَّا قَوْلَهُ : وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھوایا (یہ تحریر ان کی طرف وراد نے لکھی) میں نے رسول اللہ ﷺ سے سلام کے وقت سنا پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، مگر اس میں (وَھُُُُوَ عَلیٰ کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 593
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ .
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 593
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 593
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 594
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ، لَهُ النِّعْمَةُ ، وَلَهُ الْفَضْلُ ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ .
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 594
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يُهَلِّلُ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ .
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابوزبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے (آگے ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا: پھر ابن زبیر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان (کلمات) کو بلند آواز سے کہتے تھے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 594
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ ، أَوِ الصَّلَوَاتِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .
حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا ہے، وہ اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد نماز ختم کرتے وقت کہا کرتے تھے اور ہشام ابن عروہ کی طرح حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 594
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ يَقُولُ فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ : إِذَا سَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ ، وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابوزبیر مکی نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے (بقیہ روایت ان دونوں (ہشام اور حجاج) کی (مذکورہ بالا) روایت کے مانند ہے، اور آخر میں کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ ، أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ ، إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " تُسَبِّحُونَ ، وَتُكَبِّرُونَ ، وَتَحْمَدُونَ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً " ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا ، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ ، يُؤْتِهِ مَنْ يَشَاءُ ، وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سُمَيٌّ ، فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : وَهِمْتَ ، إِنَّمَا قَالَ : " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عاصم بن نضر تیمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، نیز (ایک اور سند سے) قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی، ان دونوں (عبیداللہ اور ابن عجلان) نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے) کہ کچھ تنگدست مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے! آپ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے، وہ (بندھوں اور غلاموں کو) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا پھر میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد (آنے والے) ہیں؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمہاری طرح عمل کرے گا۔“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیں۔) آپ نے فرمایا: ”تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح، تکبیر اور تحمید (سبحان اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ) کا ورد کیا کرو۔“ ابوصالح نے کہا: فقرائے مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے (وہ بھی تسبیح، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے۔“ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہوا ہے، انہوں (ابوصالح) نے تو کہا تھا: ”تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو۔“ میں دوبارہ ابوصالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ (اس طرح کہو) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے۔ ابن عجلان نے کہا: میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انہوں نے مجھے ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی کی مانند حدیث سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 595
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 595
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ ، عَنِ اللَّيْثِ ، إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ : ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ المهاجرين 61 ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، يَقُولُ سُهَيْلٌ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، إِحْدَى عَشْرَةَ ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ .
سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! سرمایہ دار، بلند مراتب اور دائمی نعمتیں لے گئے، جیسا کہ قتیبہ کی لیث سے روایت ہے، مگر اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فُقَرَاءُ الْمُھَاجِرِیْن لوٹ کر آئے آخر حدیث تک اور حدیث میں یہ اضافہ کیا، سہیل نےکہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کلمہ گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر مجموعی طور پر تینتیس بار۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 595
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 596
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُعَقِّبَاتٌ ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ ، أَوْ فَاعِلُهُنَّ ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً " .
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”(نماز کے یا) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد انہیں کہنے والا (یا ان کو ادا کرنے والا) کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا: تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 596
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُعَقِّبَاتٌ ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ " .
حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”ایک دوسرے کے بعد کہے جانے والے (کچھ) کلمات ہیں، ان کو کہنے والا (یا ادا کرنے والا) ناکام یا نامراد نہیں رہتا۔ ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 596
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 596
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ ، قَالَ مُسْلِم أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی، انہوں نے ابوعبید مذحجی سے روایت کی۔ امام مسلم نے کہا: ابوعبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے۔ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس دفعہ الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 597
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 597
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 597
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»