کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈنے کی ممانعت اور ڈھونڈنے والے کو کیا کہنا چاہئیے۔
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَقُلْ : لا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی آدمی کو بلند آواز سے مسجد میں گم شدہ چیز کو تلاش کرتے ہوئے سنا وہ کہے، اللہ کرے تیری چیز تجھے نہ ملے کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔‘‘
حدیث نمبر: 568
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 569
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ، نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَ ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا: جو سرخ اونٹ (کی نشاندہی) کے لیے آواز دے گا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے (تیرا اونٹ) نہ ملے، مسجدیں صرف انہی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انہیں بنایا گیا۔“ (یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے۔)
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا صَلَّى ، قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا وَجَدْتَ ، " إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہو گئے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا سرخ اونٹ کے لیے کس نے بلایا ہے؟ یعنی سرخ اونٹ کس کو ملا ہے، کے بارے میں کون بتا سکتا ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تجھے نہ ملے، مساجد صرف انہیں کاموں کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو بنایا گیا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، قَالَ مُسْلِم : هُو وَشَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ أَبُو نَعَامَةَ ، رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ ، وَهُشَيْمٌ ، وَجَرِيرٌ ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ الْكُوفِيِّينَ .
محمد بن شیبہ نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے (سلیمان) بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا (پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا۔) امام مسلم نے کہا: محمد بن شیبہ سے مراد ابونعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر، ہشیم، جریر اور دوسرے کوفی راویوں نے روایت کی۔