کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، يَعْنِي الثُّومَ ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ " ، قَالَ زُهَيْرٌ فِي غَزْوَةٍ : وَلَمْ يَذْكُرْ خَيْبَرَ .
محمد بن مثنیٰ اور زہیر بن حرب دونوں نے کہا: یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا: ”جس نے اس پودے، آپ کی مراد لہسن تھا۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ مسجدوں میں ہرگز نہ آئے۔“ زہیر نے صرف غزوہ کہا، خیبر کا نام نہیں لیا۔
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا ، حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا ، يَعْنِي الثُّومَ " .
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس ترکاری میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو چلی جائے۔“ آپ کی مراد لہسن سے تھی۔
حدیث نمبر: 562
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الثُّومِ ، فقالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّا ، وَلَا يُصَلِّي مَعَنَا " .
عبدالعزیز، جو صہیب کے بیٹے ہیں، سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 562
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔“
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ ، وَالْكُرَّاثِ ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا ، فَقَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا تو ہم نے ضرورت سے مجبور ہو کر اس سے کھا لیا، اس پر آپﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس بدبودار سبزی کو استعمال کیا، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے، جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 564
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ ثُومًا ، أَوْ بَصَلًا ، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا ، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا " ، فَسَأَلَ ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ ، فَقَالَ : قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا ، قَالَ : كُلْ ، فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجدوں سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے‘‘ اور ایک دفعہ آپﷺ کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں تو آپﷺ نے ان کی بدبو محسوس کی اور پوچھا تو آپﷺ کو ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”اس کو فلاں ساتھی کے قریب کر دو۔‘‘ تو اس نے اسے دیکھ کر (آپﷺ کی کراہت کی بنا پر) اسے ناپسند کیا، آپﷺ نے فرمایا: ”تم کھا لو کیونکہ میں اس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم سرگوشی نہیں کرتے ہو۔ یعنی میں فرشتوں سے سرگوشی کرتا ہوں۔‘‘
حدیث نمبر: 564
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ ، الثُّومِ ، وَقَالَ مَرَّةً : " مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ ، وَالثُّومَ ، وَالْكُرَّاثَ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ " .
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ ترکاری لہسن کھائی۔“ اور ایک دفعہ فرمایا: ”جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے (بھی) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 564
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، يُرِيدُ الثُّومَ ، فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ .
محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے (دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے) کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس پودے (آپ کی مراد لہسن سے تھی) میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔“ اور انہوں (ابن جریج) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 565
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ ، فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ : الثُّومِ ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا ، فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ " ، فَقَالَ النَّاسُ : حُرِّمَتْ ، حُرِّمَتْ ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِي ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا " .
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، اس ترکاری (لہسن) پر جا پڑے، لوگ بھوکے تھے اور ہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بو محسوس کی۔ آپ نے فرمایا: ”جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔“ اس پر لوگ کہنے لگے: (لہسن) حرام ہو گیا، حرام ہو گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے۔“
حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ ، فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ ، فَرُحْنَا إِلَيْهِ ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ ، وَأَخَّرَ الآخَرِينَ ، حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا " .
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (ایک دفعہ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا، اور دوسروں نے نہ کھایا۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو (قریب) بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھائی تھی اور دوسروں (جنہوں نے پیاز کھایا تھا) کو پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی۔
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي ، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ ، وَلَا خِلَافَتَهُ ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الأَمْرِ ، أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الإِسْلَامِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ ، الضُّلَّالُ ، ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ ، مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ ، وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : يَا عُمَرُ ، أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ ؟ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ ، أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ ، وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ ، وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ ، فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ ، لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا ، الْبَصَلَ ، وَالثُّومَ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ ، أَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا " ،
ہشام نے کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن خطبہ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، کہا: میں نے خواب دیکھا ہے، جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور اس کو میں اپنی موت قریب آنے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا۔ اور کچھ قبائل مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین بنا دوں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا، نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اگر مجھے جلد موت آ جائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہم مشورے سے طے ہو گی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت خوش تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے، وہ اس امر (خلافت) پر اعتراض کریں گے، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے، پھر میں اپنے بعد جو (حل طلب) چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں سے میرے نزدیک کلالہ کی وراثت کے مسئلے سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زیادہ اہم نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے کے بارے میں اتنی دفعہ رجوع نہیں کیا جتنی دفعہ کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے (بھی) میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر سختی نہیں برتی جتنی میرے ساتھ آپ نے اس مسئلے میں سختی کی حتیٰ کہ آپ نے انگلی میرے سینے میں چبھو کر فرمایا: ”اے عمر! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی آیت تمہارے لیے کافی نہیں جو سورة النساء کے آخر میں ہے؟“ میں اگر زندہ رہا تو میں اس مسئلے (کلالہ) کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ (ہر انسان) جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے گا، پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ! میں شہروں کے گورنروں کے بارے میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے لوگوں پر انہیں صرف اس لیے مقرر کر کے بھیجا کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کے اموال فیے ان میں تقسیم کریں اور اگر لوگوں کے معاملات میں انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں۔ پھر اے لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، میں انہیں (بو کے اعتبار سے) برے پودے ہی سمجھتا ہوں، یہ پیاز اور لہسن ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب مسجد میں آپ کو کسی آدمی سے ان کی بو آتی تو آپ اسے بقیع کی طرف نکال دینے کا حکم صادر فرماتے، لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے۔
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كلاهما ، عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔